Qs writes

Qs writes This page is about to HUMANITY

03/08/2017

ایک دن حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کھانا کھا رہے تھے، آپ کا دل کسی میٹھی چیز کھانے کو چاہا، آپ نے اپنی زوجہ سے پوچھا کہ :
" کیا کوئی میٹھی چیز ہے ...؟ "

انہوں نے جواب دیا :
" بیت المال سے جو کچھ آتا ہے اس میں میٹھی کوئی چیز نہیں ہوتی ... "

چند دن بعد آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے دیکھا کہ دسترخوان پر کھانے کے ساتھ حلوہ بھی موجود ہے، آپ نے اپنی زوجہ صاحبہ سے پوچھا :
" آج یہ حلوہ کیسے بن گیا ....؟ "

آپ کی زوجہ محترمہ نے فرمایا :
" میں نے محسوس کیا کہ آپ کو میٹھی چیز کی خواہش ہے تو میں نے یوں کیا کہ جتنا آٹا روزانہ آتا تھا اس میں سے مٹھی بھر آٹا الگ رکھتی تھی، آج اتنا آٹا جمع ہو گیا کہ اس کے بدلے میں نے بازار سے کجھور کا شیرہ منگوایا اور اس طرح یہ حلوہ تیار کیا ... "

آپ نے حلوہ تناول فرمایا اور کھانے کے بعد آپ سیدھے بیت المال کے مہتمم کے پاس پہنچے اور فرمایا :
" ہمارے ہاں راشن میں جس قدر آٹا جاتا ہے، آج سے اس میں سے ایک مٹھی کم کر دینا، کیونکہ ہفتہ بھر کے تجربے نے بتایا ہے کہ ہمارا گزارہ مٹھی بھر کم آٹے میں بھی ہو جاتا ہے ..."

اللہ اکبر .... !
میں اپنے صحابہ رسول اللہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ وسلم کے کن، کن اعمال کے صدقے جاؤں ...!

دستک ایک ایسا پیج جہاں پر اسلامی و تاریخی معاشرتی و سیاسی تحریریں اپلوڈ کی جاتی ہے ، فیس بک کی دنیا کا سب سے الگ اور منفرد پیج جن کا دعوٰی ہے کہ ہماری تحریریں مغل گارڈر کی طرح مضبوط اور چراٹ سیمٹ کی طرح پائیدار ہوتی ہیں

03/08/2017

میری بیٹی بڑی ہو گئی ۔۔
ایک روز اس نے بڑے پیار سے مجھ سے پوچھا ،
"پاپا، کیا میں نے آپ کو کبھی رلایا ؟؟"
میں نے کہا ،
"جی ہاں."
"کب؟" اس نے حیرت سے پوچھا .
میں نے بتایا ،
"اس وقت تم قریب ایک سال کی تھی . گھٹنوں پر سركتی تھی . میں نے تمہارے سامنے پیسے ، قلم اور کھلونا رکھ دیا، کیونکہ میں دیکھنا چاہتا تھا کہ تم تینوں میں سے کسے اٹھاتی ہو . تمہارا انتخاب مجھے بتاتا کہ بڑی ہوکر تم کسے زیادہ اہمیت دو گی .
جیسے پیسے مطلب جائیداد ، قلم مطلب عقل اور کھلونا مطلب لطف اندوز . میں نے یہ سب کچھ پیار سے کیا . مجھے تمہارا انتخاب دیکھنا تھا . تم ایک جگہ مستحکم بیٹھی ٹكر ٹكر ان تینوں اشیاء کو دیکھ رہی تھی . میں تمہارے سامنے ان اشیاء کی دوسری طرف خاموش بیٹھا تمہیں دیکھ رہا تھا . تم گھٹنوں اور ہاتھوں کے زور پر سركتی آگے بڑھی ، میں سانس روکے دیکھ رہا تھا اور لمحہ بھر میں ہی تم نے تینوں اشیاء کو بازو سے سرکا دیا اور ان کو پار کرتی ہوئی آکر میری گود میں بیٹھ گئی .
مجھے دھیان ہی نہیں رہا کہ ان تینوں اشیاء کے علاوہ تمہارا ایک انتخاب "میں" بھی تو ہو سکتا تھا . . .
وہ پہلی اور آخری بار تھا بیٹا جب تم نے مجھے رلایا تھا.."
#اعجاز...

آپ کے شیئر کرنے سے شاید کسی پرندے کی جان بچ جائے۔۔۔۔۔۔
01/08/2017

آپ کے شیئر کرنے سے شاید کسی پرندے کی جان بچ جائے۔۔۔۔۔۔

آپ کے پاس اپنے آپ کےلیے بیٹھے ہوتے ہیں مگر آپ موبائل میں لگے ہوتے ہیں آپ کو ان کی قدر ابھی نہیں ہے مگر ایک دن جب آپ اس م...
01/08/2017

آپ کے پاس اپنے آپ کےلیے بیٹھے ہوتے ہیں مگر آپ موبائل میں لگے ہوتے ہیں آپ کو ان کی قدر ابھی نہیں ہے مگر ایک دن جب آپ اس موبائل سے نکل کر اردگرد دیکھیں گے تو شاید وہاں کوئی نہ ہو اس لئے اپنی اور اپنوں کی قددر کیجیے۔۔۔

خدارا ایسے لوگوں سے ضرور خریدا کریں. یہ لوگ امیری کے لیے نہیں بلکہ دو وقت کی روٹی کے لیے کماتے ہیں. دوستوں اور عزیزوں کے...
01/08/2017

خدارا ایسے لوگوں سے ضرور خریدا کریں. یہ لوگ امیری کے لیے نہیں بلکہ دو وقت کی روٹی کے لیے کماتے ہیں.
دوستوں اور عزیزوں کے ساتھ شیئر ضرور کریں شاید آپ کی وجہ سے کسی غریب کا چولہا جل جائے
Qswrites

کل شام مجھے میرے ایک دوست کے ساتھ Chenone Tower جانے کا اتفاق ہوا۔۔۔ ہم لوگوں نے وہاں سے شاپنگ کی لیکن ایک چیز میں نے ob...
01/08/2017

کل شام مجھے میرے ایک دوست کے ساتھ Chenone Tower جانے کا اتفاق ہوا۔۔۔ ہم لوگوں نے وہاں سے شاپنگ کی لیکن ایک چیز میں نے observe کی ہے وہ میں آپ لوگوں سے شیئر کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔
ہم لوگ Outfitters اور Levis پہ جاتے ہیں شاپنگ کرتے ہیں اور Cash Counter پہ جا کر بولتے ہیں
Excuse me how much we need to pay ??
اور cash counter پہ بیٹھا شخص چیزوں کو سکین کرتا ہے اور کہتا ہے 17000 only سر ۔۔۔ ہم لوگ کہتے ہیں Sure take it پھر ہم لوگ تھینکس بولتے ہیں اور وہاں سے باہر آ جاتے ہیں ۔۔۔۔۔
باہر کھڑے آٹو رکشا والے چچا سے پوچھتے ہیں Elive Garden phase 2 جانا ہے کتنے لو گے ۔۔۔۔ چچا 80 روپے دے دو صاحب چھوڑ آتا ہوں ۔۔۔ اور ہم لوگ ۔۔ خدا کا نام لو بابا جی کیوں لوٹ رہے ہو سب کو۔۔۔۔۔ 50 دیں گے لے جانا ہے تو لے جاو۔۔۔
گویا ہم نے اپنی ضد سے ایک غریب انسان یا معمولی آٹو والے یا ٹھیلے والے کے بال بچوں کے پیٹ پر لات ماردی .

میرا سوال یہ ہے کہ کیا معاشرتی لحاظ سے ہمارا یہ طرز عمل درست ہے ؟؟ دیکھیں میں یہ نہیں کہتا کہ آپ لوگ Bargaining مت کریں ۔۔۔ لیکن ۔۔۔۔۔ ایک سوالیہ نشان ہم سب کے لیے ؟؟ :(
علی شیرازی ۔۔

01/08/2017

✔مجهے اس سے محبت نہیں تهی ،ہوتی بهی کیسے !
وہ عام سی شکل وصورت کی سانولی سی لڑکی تهی . تیل سے چپکے ہوئے بال اور اس پر تین گز لمبی چادر .
پڑهی لکهی ہونے کے باوجود شدید احساس کمتری کا شکار تهی . جبکہ میں اس کے مقابلے میں اچها خاصا سمارٹ تها .
وہ تو اماں کے مجبور کرنے پر میں نے اس سے شادی کر لی ،کہ بیوہ بہن کی بیٹی ہے ،کہاں غیروں میں کهجل خوار ہو گی ،لیکن محبت کبهی نہ کر سکا اس سے ،
سارا دن گهر کے کام کاج میں جتی رہتی ،اماں ابا کی جی جان سے خدمت کرتی
میری ہر ضرورت کا خیال رکهتی ،کوئی شکوہ نہ شکائت ،یوں جیسے پتهر کی مورت ہو .
میری بے رخی اس کے لئے یوں ہی برقرار رہی .بلکہ رفتہ رفتہ اس میں اضافہ ہوتارہا .ایسی گهٹن زدہ زندگی سے تنگ آگیا تها میں .
اماں کے مرنے کی دیر تهی کہ میں نے دوسری شادی کر لی ،اس نے کوئی احتجاج نہ کیا ،روئی نہ چلائی ،بس خاموشی سے سب کچهہ دیکهتی رہی .
دوسری بیوی کے آتے ہی میں اپنی دنیا میں مست ہو گیا ،
پارٹیاں ،ہنگامے ،سیروتفریح ،زندگ ایکدم بے حد خوبصورت لگنے لگی .اسے تو گویا میں بهلا بیٹها ،
ایکدن اس کے کمرے کے سامنے سے گزرتے ہوئے رکنا پڑا ، رو رو کر فون پر کہہ رہی تهی .
کیسی باتیں کرتی ہیں اماں آپ ! بهلا میں کیا حق رکهتی ہوں احتجاج کا ؟
جانتی ہوں ،زبردستی کے سودے ایسے ہی ہوتے ہیں ،
یہ کیا کم ہے کہ دوسری شادی کے بعد بهی انہوں نے مجهے اپنے ساتهہ رکها ہوا ہے ، اپنی ماں کو دیا وعدہ نبها رہے ہیں .
میرے شور شرابہ کرنے پر اگر انہوں نے مجهے چهوڑ دیا تو بتاو کیا کروں گی میں ؟ تم تو اپنی سانسیں گن رہی ہو ، مجهے کون سہارا دے گا ،
سر پر باپ ہے نہ بهائی ،جو میری حمائت میں بولے .
اور پهر مرد کی محبت کا کیا ہے ،یہ تو نفل نماز جیسی ہوتی ہے ،ہو گئی تو ہو گئی ،ورنہ کونسی فرض ہے کہ نہ ہونے سے گناہ ہو گا .
وہ اپنی ہچکیوں پر قابو پانے کی ناکام کوشش کرتی رہی ، میں گم سم کهڑا سب کچهہ سنتا رہا ،یقین نہیں آرہاتها کہ
بظاہر چٹان کی طرح مضبوط نظر آنے والی لڑکی ،اندر سے کس قدر ٹوٹ چکی تهی ،ریزہ ریزہ وجود کو سمیٹ کر کیسے اس نے خود کو سنبهال رکها تها .
صرف بد صورتی کے جرم میں وہ یہ سزا بهگت رہی تهی . میری عزت ،میرے گهر کی رکهوالی کرنے والی ،اپنے اندر کی گهٹن میں مر مر کر جی رہی تهی .
اللہ کے بعد جسے اس کا سب سے بڑا سہارا ہونا چاہئے تها ،وہی اسے ٹهکراتا اور دهتکارتا رہا ،
جس پر اسے مان تها ،اسی سے خوفزدہ تهی ،بےآسرا ہو جانے کے ڈر سے اپنے وجود کے خ*ل میں چهپی بیٹهی تهی .
بےاختیار میرے قدم اٹهے اور میں اس کے سامنے چلا گیا .
مجهے دیکهہ کر ٹهٹکی اور بوکهلا کر کهڑی ہو گئی .چہرہ خوف سے زرد پڑ گیا
میں نے اس کے دونوں ہاتهہ تهام لئے اور دکهہ سے بولا ،
جن پر مان ہوتا ہے ،ان کا بهرم رکهتے ہیں ،مجهے معاف کر دو .
حیرت اور بے یقینی سے اس نے میری طرف دیکها ، میں نے سر جهکا کر اپنی غلطیوں کا اعتراف کرلیا . بے تحاشہ روتے ہوئے اس نے اپنا سر میرے شانے سے ٹکا دیا..!!
#انتخاب

ہوا یوں کہ گھر سے بھابی کا فون آیا کہ آج گڑیا کا دل چاہ رہا ہے چکن تکہ کھانے کا ۔ آج ہم نے کچھ نہیں پکایا ۔۔ آپ آفس سے آ...
30/07/2017

ہوا یوں کہ گھر سے بھابی کا فون آیا کہ آج گڑیا کا دل چاہ رہا ہے چکن تکہ کھانے کا ۔ آج ہم نے کچھ نہیں پکایا ۔۔ آپ آفس سے آتے ہوئے بوٹ بیسن سے ہمارے پسندیدہ ہوٹل سے گرین چکن تکّے لیتے آئیے گا ۔۔ ہم یہاں کے ہوٹل کے تکّے نہیں کھائیں گے ۔رضوان بھائی آفس سے نکلے تو موٹر سائیکل کا رخ بوٹ بیسن کی طرف تھا ۔ وہ اپنی بیٹی گڑیا کی کوئی فرمائش نہیں ٹالتے تھے ۔۔ چاہے مالی حالات جس قسم کے بھی ہوں ۔۔ تنخواہ بمشکل پوری ہورہی ہو ۔ آخری تاریخوں میں آفس سے ایڈوانس اٹھاکے گھر چلانا پڑتا ہو ۔۔ مگر گڑیا کا کہا نہ ٹالا جاتا چونکہ گڑیا اب دو مہینے کی مہمان تھی ۔ اس کی شادی کی تاریخ طے ہوگئی تھی اور پھر وہ رضوان بھائی کی اکلوتی اولاد تھی ۔ ان کی جان تھی ۔۔ ان کا سب کچھ تھی ۔ وہ اپنا اور اپنی بیوی کا تو من مارسکتے تھے ۔ خواہشیں، دل کے ارمان دباسکتے تھے ۔ مگر گڑیا کی بات ٹالنا ناممکن تھا ۔ہوٹل پہنچ کر انہوں نے جیب سے وولٹ نکالا ۔۔ پیسے پر ایک نظر ڈالی ۔۔ سوچا تین تکّے اور تین چار پراٹھے تو آرام سے آجائیں گے ۔ پیمنٹ کرکے کھانا پیک کرایا اور موٹر سائیکل اسٹارٹ کی کہ برابر میں کھڑے ایک موٹر سائیکل والے نے ان کے ٹائر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔” بھائی تمہارا ٹائر پنکچر ہے “رضوان بھائی کا رنگ اڑ گیا ۔ الٰہی خیر ! جیب میں تو اتنے پیسے بھی نہیں ۔ وہ موٹر سائیکل قریب ہی پٹرول پمپ تک چلا کے لے گئے ۔ پنکچر والے نے دیکھ کے کہا ۔۔ ہوا کم ہے ۔۔ ہوا بھر والو ۔۔ پنکچر نہیں ۔ رضوان بھائی نے دل ہی دل میں خدا کا شکر ادا کیا ۔ ٹائر میں ہوا بھر کے جب پٹرول پمپ سے نکلنے لگے تو اچانک فٹ پات پر بیٹھے ایک بوڑھے شخص پر نظر پڑی ۔ نظر ملتے ہی وہ بوڑھے نے سوال کیا ۔۔ ” بیٹا ! صبح سے کچھ نہیں کھایا ۔ ایک روٹی اللہ کے نام “رضوان بھائی نے اسے “معاف کرو بابا ” کہا اور موٹر سائیکل آگے بڑھائی ۔۔ ابھی تھوڑا ہی آگے گئے تھے کہ کسی خیال کے ذہن میں آتے ہی انہوں نے بریک لگائی ۔ان کی نظروں کے آگے اس بوڑھے کا چہرہ گھومنے لگا ۔ آنکھیں اندر کو دھنسی ہوئیں ۔ ہونٹ پھٹے ہوئے ۔۔ بے ترتیب ڈارھی ۔۔ کپکپاتے ہاتھ ۔۔ میلے کچیلے کپڑے ۔۔ کہیں وہ واقعی صبح سے بھوکا نہ ہو ۔۔ ہوسکتا ہے وہ سچ بول رہا ہو ۔ اس خیال کے آتے ہی انہوں نے موٹر سائیکل کو واپس پٹرول پمپ کی طرف موڑا ۔ وہاں پہنچ کر انہوں نے اپنےہوٹل کے پیک کیے گئے تھیلے میں سے ایک تکّہ اور ایک پراٹھا بوڑھے کو نکال کے دیا ۔ بوڑھےکی آنکھوں میں عجیب سی چمک آئی اور وہ تکّے کی طرف لپکا اور پھر آسمان کی طرف ہاتھ اٹھاکے دعائیں دینے لگا ۔ رضوان بھائی نے گھر کی راہ پکڑی ۔۔ راستے میں وہ سوچنے لگے کہ بیگم اور گڑیا دونوں یہ سوال ضرور کریں گی کہ تین افراد کے لیے دو تکّے کیوں ۔۔ کیا پیسے کم پڑ گئے تھے ۔ مجھے یقینا پہلے سے ہی کوئی بہانہ بنانا پڑے گا ورنہ وہ دونوں بھی نہیں کھائیں گی ۔ پھر کچھ سوچ کے انہوں نے اپنے آپ سے کہا ۔ ” ہاں یہ ٹھیک ہے۔ کہ میں جاتے ہی پیٹ پکڑ لوں گا کہ میرے پیٹ میں شدید درد ہے ۔ میں کچھ نہیں کھائوں گا ۔ میں نے آپ دونوں کے لیے ہی کھانا لیا ہے ۔ یہ ٹھیک رہے گا ۔ انہوں نے اپنے آپ سے کہا "

18/07/2017
اپنے ساتھ دوسروں کا بھی خیال رکھیں اور ............ happy rainy day
18/07/2017

اپنے ساتھ دوسروں کا بھی خیال رکھیں اور ............ happy rainy day

Address

Sialkot

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Qs writes posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share