Rahe Sunnat

Rahe Sunnat Rahe Sunnat is an Islamic channel. Which is made only on the basis of how we can spread Islam from street to street.
(2)

Rahe Sunnat Based on Islamic Topic Youtube Channel, And he has also huge islamic videos.

08/08/2026

سورۃ توبہ کی ابتدا میں بسم اللّٰہ نہ ہونے کی وجہ

سوال
سورۃ توبہ کی ابتدا میں بسم اللّٰہ کیوں نہیں؟

جواب
اس کی توجیہ میں مختلف اقوال ہیں، جس میں مشہور یہ ہے:

حضور ﷺ کی عادتِ مبارکہ یہ تھی کہ جب بھی کوئی آیت نازل ہوتی تو آپ ﷺ کاتبینِ وحی صحابہ کو بلاکر اس آیت کو جس جگہ جس سورت میں لکھنا ہوتا تھا بتلا کر اس آیت کو لکھوا لیتے، لیکن یہ آیتیں جنہیں سورۂ توبہ کے نام سے جانا جاتا ہے ان کے متعلق حضور ﷺ نے کچھ ارشاد نہیں فرمایا کہ انہیں کس سورت میں کس جگہ پر لکھنا ہے ؟ اس لیے ایسا سمجھا جا سکتا ہے کہ یہ بھی ایک مستقل سورت ہوگی، تاہم سورۂ انفال کی آخری اور سورۂ توبہ کی ابتدائی آیات کے مضامین میں مناسبت پائی جاتی ہے، دونوں سورتوں میں مناسبت کی وجہ سے سورۂ توبہ کو سورۂ انفال کے بعد رکھا گیا، دوسری طرف جب ایک سورت کو دوسر ی سورت سے علیحدہ کرنا ہوتا تو بیچ میں بسم اللہ لکھی جاتی تھی؛ تاکہ یہ معلوم ہو کہ دونوں سورتیں الگ الگ ہیں، سورۂ توبہ کے شروع میں بسم اللہ لکھوائی نہیں گئی تاکہ ما قبل والی سورت کے ساتھ اس کا تعلق ہونا سمجھ میں آئے ،اور چوں کہ یہ بات واضح نہیں تھی کہ سورۂ توبہ الگ سورہ ہے یا سورۂ انفال ہی کاجز ہے ، اس لیے دونوں پہلوؤں کو مد نظر رکھتے ہوئے صحابہؓ کے زمانہ میں جب حضرت عثمان ؓ نے قرآن کو جمع کیا تو اس کے شروع میں بسم اللہ نہیں لکھی گئی، اور اگلی سورت سے اس کو الگ بتایا گیا؛ تاکہ دونوں سورتوں کو ایک ہی نہ سمجھ لیا جائے۔

تفسير القرطبي (8/ 61):
"واختلف العلماء في سبب سقوط البسملة من أول هذه السورة على أقوال خمسة: الأول: أنه قيل: كان من شأن العرب في زمانها في الجاهلية إذا كان بينهم وبين قوم عهد فإذا أرادوا نقضه كتبوا إليهم كتاباً ولم يكتبوا فيه بسملةً فلما نزلت سورة براءة بنقض العهد الذي كان بين النبي صلى الله عليه وسلم والمشركين بعث بها النبي صلى الله عليه وسلم علي ابن أبي طالب رضي الله عنه فقرأها عليهم في الموسم ولم يبسمل في ذلك على ما جرت به عاد تهم في نقض العهد من ترك البسملة.

وقول ثان: روى النسائي قال: حدثنا أحمد قال: حدثنا محمد بن المثنى عن يحيى بن سعيد قال: حدثنا عوف قال: حدثنا يزيد الرقاشي قال: قال لنا ابن عباس: قلت لعثمان: ما حملكم إلى أن عمدتم إلى [الأنفال] وهي من المثاني وإلى" براءة" وهي من المئين فقرنتم بينهما ولم تكتبوا سطر بسم الله الرحمن الرحيم ووضعتموها في السبع الطول ، فما حملكم على ذلك؟ قال عثمان: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان إذا نزل عليه الشيء يدعو بعض من يكتب عنده فيقول: (ضعوا هذا في السورة التي فيها كذا وكذا) . وتنزل عليه الآيات فيقول: (ضعوا هذه الآيات في السورة التي يذكر فيها كذا وكذا) . وكانت" الأنفال" من أوائل ما أنزل ، و" براءة" من آخر القرآن، وكانت قصتها شبيهة بقصتها وقبض رسول الله صلى الله عليه وسلم ولم يبين لنا أنها منها فظننت أنها منها فمن ثم قرنت بينهما ولم أكتب بينهما سطر بسم الله الرحمن الرحيم. وخرجه أبو عيسى الترمذي وقال: هذا حديث حسن". فقط واللہ اعلم

فتویٰ نمبر : 144004200193

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

Send a message to learn more

08/08/2026

*🎯 فحش گوئی اور بد زبانی سے بچنے کی ہدایت*

احادیث نبویہ میں رسول الله ﷺ کی جو *تعلیمات* ہیں، ان میں ایک *اہم تعلیم* یہ ہے کہ آدمی *فحش گوئی* سے بچے، *بری بات* کہنے سے بچے۔

چنانچہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
*مَا كَانَ الْفُحْشُ فِي شَيْءٍ إِلَّا شَانَهُ، وَمَا كَانَ الْحَيَاءُ فِي شَيْءٍ إِلَّا زَانَهُ*
اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ:
"جس چیز میں بدگوئی اور فحش گوئی شامل ہو جائے، وہ اس کو عیب والا بنا دیتی ہے اور جس چیز کے اندر اچھائی اور حیا شامل ہو جائے، وہ اس کو زینت والا اور شاندار بنا دیتی ہے۔"

خود *آقا ﷺ کے متعلق* روایات میں آتا ہے کہ آپ ﷺ فحش گو نہیں تھے۔
اچھا فحش گوئی کی *دو قسمیں* ہوتی ہیں:
ایک تو وہ ہے جو *بہت زیادہ بے ہودہ بات* کرے، *لعن طعن* کرے، اس کا مزاج ہی یہ ہو؛ یہ بھی نہیں کرنا۔
ایک یہ کہ آدمی کی *طبیعت* نہیں ہے لیکن کبھی کبھی *بھونڈے مذاق* کرتا ہے، *بتکلف* کبھی اس طرح کی بات کہتا ہے۔
آپ ﷺ کی تعلیمات یہ ہیں کہ یہ *دونوں طریقے* اختیار نہ کیے جائیں۔

ایک روایت کے اندر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
*خِيَارُكُمْ أَحَاسِنُكُمْ أَخْلَاقًا*
"تم میں بہتر وہ ہے جس کے اخلاق اچھے ہیں۔"

اخلاق کا اظہار *زبان کے ذریعے* ہوتا ہے۔ آپ ﷺ نے اپنی امت کو ان اخلاق کی تعلیم دی ہے جن اخلاق سے معاشرہ *خوبصورت* بنتا ہے اور *بگاڑ* ختم ہوتا ہے۔
اب ہو کیا رہا ہے کہ اس وقت *ایک بہت بڑا طبقہ* جو باقی چیزوں میں بہت اچھا ہے، ان کے پاس کچھ *سمجھ بوجھ* بھی ہے، *علم و فہم* بھی ہے اور وہ معاشرے میں اچھے سمجھے جاتے ہیں؛ لیکن اگر آپ *سوشل میڈیا* پر ان کو دیکھیں تو ان سے آپ کو *فحش گوئی* ملے گی۔
اچھا! اب تو بہت آسان ہو گیا نا، پہلے تو ایک *دور* تھا ایک *مقرر* آتا *تقریر* کرتا، لوگ بات سنتے، کسی کو اعتراض ہوتا تو بات ہی نہیں کر سکتا تھا کیونکہ وہاں پر بات چیت کا موقع ہی نہیں تھا، *خطابت* کا دور تھا، اب دور آگیا *مکالمے* کا! خطابت والا دور کم ہو گیا اور پھر خطابت اور گفتگو اب *میڈیا* پر آ رہی ہے اور ہر آدمی کا اپنا ایک *چینل* بنا ہوا ہے، ہر آدمی کا اپنا *پیج* بنا ہوا ہے، ہر آدمی کی اپنی ایک *وال (Wall)* بنی ہوئی ہے۔
پھر جس نے اپنی وال بنائی، اس کے نیچے *کمنٹ سیکشن (Comment Section)* کھولا ہوا ہے، آپ جا کے دیکھیں آپ کو دیکھ کر حیرانگی ہوگی کہ وہ لوگ جو ظاہراً بہت اچھے سمجھے جاتے ہیں لیکن ان کے کمنٹ کتنے انتہائی درجہ بے ہودہ ہیں! یعنی اتنے بے ہودہ ہیں کہ اس کا منہ سے ذکر کرنا بڑا مشکل ہے اور آپ باقی دیکھیں تو بڑا عجیب مسئلہ ہے! کسی کے رویے پر، کسی کی بے اعتدالی پر، کسی کی کسی بات پر تنبیہ کرنا، اس کو متوجہ کرنا کوئی منع نہیں ہے، کسی کی رائے سے اختلاف کرنا کوئی منع نہیں ہے، لیکن! آپ کسی کی رائے سے اختلاف اس طرح کریں کہ اس میں بے ہودگی کا مظاہرہ کریں یہ تو تعلیمات ہیں ہی نہیں!
سوشل میڈیا پر بے ہودگی کا *طوفان* مچا ہوا ہے فحش گوئی کا *طوفان* مچا ہوا ہے! اور پھر صرف یہی نہیں! اس کو *شیئر (Share)* بھی کیا جا رہا ہے، اس کو *لائک (Like)* بھی کیا جا رہا ہے!

قرآن کریم کی ایک آیت اس موقع پر یاد آ گئی جو الله تعالیٰ نے سورۃ النور میں ذکر کی ہے:
*إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَن تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ*
"وہ لوگ جو اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ (ایمان والوں میں) فحش کو عام کریں، ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔"

سوچنے کی بات یہ ہے کہ یہ کیا لائک اور شیئر یہ *خیر* کے لیے ہو رہا ہے یا بے ہودگی کے لیے ہو رہا ہے؟ ہم معاشرے میں کس کو فروغ دے رہے ہیں؟
اچھا آج جو آدمی یہ کر رہا ہے، ایک لمحے کے لیے سوچے کہ اگر اس کا اس دنیا سے *انتقال* ہو جائے، تو اس کا تو گناہ سارا یہاں پر لکھا ہوا موجود ہے، ایک زمانہ تھا لوگ *منہ* سے غلط بات کہتے تھے، وہ منہ سے نکالی اور ختم ہو گئی، ٹھیک ہے بھئی! فرشتے نے لکھی، الله تعالیٰ معاف بھی کر دیں گے، لیکن *اپنے گناہ* پر اب لوگوں کو *گواہ* بنا رہا ہے! پورا سوشل میڈیا بھرا ہوا ہے کس سے؟ *گناہوں کے ذریعے!* اور وہاں پر کہیں کسی کو *گالی* دی ہے،
کہیں کسی سے *بدتمیزی* کی ہے، کہیں کسی کی *عزت* کو تار تار کیا ہے، کہیں کسی پر *تبصرے* کیے ہیں جو کہ نازیبا ہیں۔
میں پھر عرض کر رہا ہوں؛ *اختلاف* کوئی منع نہیں! آپ کسی پر علمی نقد کریں، کسی پر دلائل سے آپ اعتراض رکھیں، کوئی منع نہیں کیونکہ آپ حق کی طرف بات کرنا چاہ رہے ہیں، آپ اس کو *دائرے* میں رہ کر کریں، لیکن فحش گوئی کہاں سے آگئی؟ یہ *اسلام کی تعلیمات* نہیں ہیں، آپ ﷺ کی تعلیمات نہیں ہیں، دینِ اسلام کے اخلاق نہیں ہیں۔ یہ بھونڈا مذاق، یہ بدتمیزی، یہ لہجے خراب کرنا یہ سب کی سب وہ چیزیں ہیں جس کی ہمیں روکنے کی ضرورت ہے اور شریعت نے بھی اس کو *ناپسند* کیا ہے۔
الله تعالیٰ ہمیں اس فحش سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔

Send a message to learn more

04/08/2026
04/08/2026

مکہ مکرمہ

اللہ کے راستے میں عمل پر انچاس کروڑ کا ثواب ملنے والی روایات کی تحقیق سوال ۱۔اللہ کے راستے میں ایک نماز، روزہ اور ذکر پر...
22/07/2026

اللہ کے راستے میں عمل پر انچاس کروڑ کا ثواب ملنے والی روایات کی تحقیق

سوال
۱۔اللہ کے راستے میں ایک نماز، روزہ اور ذکر پر انچاس کروڑ کا ثواب ملنے کے بارے میں جن دو روایتوں کو ملا یا جاتا ہے کیا وہ روایات مستند ہیں؟اوربیان کرنے کے قابل ہیں؟۲۔کیا یہ فضیلت صرف جہاد کے ساتھ خاص ہےیا تبلیغی جماعت میں وقت لگا نے والوں ،علم کی تلاش میں نکلنے والوں اور حج پر جانے والوں کو بھی یہ ثواب ملے گا؟۳۔اللہ کے راستے میں نماز ،روزہ اور ذکر پر انچاس کروڑ کا اجر ملے گا ۔ کیا اللہ کے راستے کی فضیلت بیان کرنے کے لیے اس کو اس طریقے سے ترغیب کے طور پر بیان کرنا صحیح ہے؟
جواب
واضح رہے کہ اللہ کے راستے میں نکلنے والے کو ایک نماز اور ذکر پر انچاس کروڑ کا ثواب ملنے کے لیے جن دو روایات کو ملایا جاتا ہے ان میں سے ایک روایت سنن ابی داؤد کی ہے جس کے بارے میں علامہ خلیل احمد سہارنپوریؒ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث ضعیف ہے، اس لیے کہ اس کی سند میں دو ضعیف راوی ہیں ایک" زبان بن فائد" اور دوسرا "سہل بن معاذ"ہے، جب کہ دوسری روایت سنن ابن ماجہ کی ہے جس کی سند میں "خلیل بن عبداللہ" ہے جس کے متعلق ابن حجر عسقلانی ؒ فرماتے ہیں کہ یہ مجہول راوی ہے۔

لہذاسندا یہ دونوں روایتیں ضعیف ہیں ، لیکن فضائل میں ضعیف روایت کو بھی بیان کیا جاسکتا ہے،اس لیے یہ بیان کرنے کے قابل ہے۔

2- اگر چہ اللہ تعالی کی راہ میں دشمنانِ اسلام سے لڑنا"فی سبیل اللہ" کا اعلیٰ درجہ ہے ، لیکن "فی سبیل اللہ " کے مفہوم چونکہ وسعت ہے ، لہذا جہاد ، تبلیغ، حج اور درس وتدریس وغیرہ دین کے تمام شعبوں کو "فی سبیل اللہ"کے فضائل حاصل ہوں گے۔

3- ایسی کوئی صریح حدیث نہیں ملتی جس کے الفاظ سے صاف صاف ثابت ہو کہ ایک نماز، روزہ وغیرہ کا ثواب انچاس کروڑ ملتا ہے، اس لیے یوں کہنا درست نہیں کہ "حدیث میں ہے کہ اللہ کے راستے میں ایک نماز، روزہ اور ذکر پر انچاس کروڑ کا اجر ملے گا"، البتہ جن دو حدیثوں کو ملا کر یہ فضیلت بیان کی جاتی ہے اگر ان دونوں کو ذکر کر کے پھر ضرب کی وضاحت کردی جائے تو اس کی گنجائش ہوگی۔



(حدثنا أحمد بن عمرو بن السرح، نا ابن وهب، عن يحيى بن أيوب وسعيد بن أبي أيوب، عن زبان بن فائد، عن سهل بن معاذ، عن أبيه) معاذ بن أنس (قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: إن الصلاة والصيام والذكر)، ويدخل فيه التسبيح والتهليل والتكبير والتصلية وقراءة القرآن بالتدبر وغير ذلك من أنواع الذكر (يضاعف) أي يزاد باعتبار الأجر والثواب (على النفقة في سبيل الله عزَّ وجلَّ بسبع مائة ضعف)۔۔۔ والحديث ضعيف، لأن في سنده زبان بن فائد وسهل بن معاذ.(بذل المجهود، كتاب الجهاد، باب تضعيف الذكر في سبيل الله ، ج:11، ص:404)

زبان بن فائد بالفاء المصري أبو جوين بالجيم مصغرا الحمراوي بالمهملة ضعيف الحديث مع صلاحه وعبادته۔(أيضا،رقم:1995، ص:364)

سهل بن معاذ بن أنس الجهني نزيل مصر لا بأس به إلا في روايات زبان عنه من الرابعة۔(أيضا، رقم:2682، ص:478)

" حدثنا هارون بن عبد الله الحمال ثنا ابن أبي فديك عن الخليل بن عبد الله عن الحسن عن علي بن أبي طالب وأبي الدرداء وأبي هريرة وأبي أمامة الباهلي وعبد الله ابن عمر وعبد الله بن عمرو وجابر بن عبد الله وعمران بن الحصين كلهم يحدث عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه قال: من أرسل بنفقة في سبيل الله وأقام في بيته فله بكل درهم سبعمائة درهم، ومن غزا في سبيل الله وأنفق في وجه ذلك فله بكل درهم سبعمائة ألف درهم، ثم تلا هذه الآية: {والله يضاعف لمن يشاء}". (سنن ابن ماجه، کتاب الجهاد، باب فضل النفقة في سبيل الله، ص: 198)

الخليل بن عبد الله مجهول من السابعة۔(تقريب التهذيب، رقم:1764ج:1، ص:325)

ما قوله تعالى " وفي سبيل الله "عبارة عن جميع القرب فيدخل فيه كل من سعى في طاعة الله تعالى وسبيل الخيرات۔(بدائع الصنائع، كتاب الزكوة، باب المصارف، ج:3، ص:230)

( ويجوز عند أهل الحديث وغيرهم التساهل في الأسانيد ) الضعيفة ( ورواية ما سوى الموضوع من الضعيف والعمل به من غير بيان ضعفه في غير صفات الله تعالى ) وما يجوز ويستحيل عليه وتفسير كلامه ( والأحكام كالحلال والحرام و ) غيرهما وذلك كالقصص وفضائل الأعمال والمواعظ وغيرها ( مما لا تعلق له بالعقائد والأحكام ) ومن نقل عنه ذلك ابن حنبل وابن مهدي وابن المبارك قالوا إذا روينا في الحلال والحرام شددنا وإذا روينا في الفضائل ونحوها تساهلنا تنبيه۔(تدريب الراوي، النوع الثاني والعشرون: المقلوب، 149)

دار الافتاء:
دار الافتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
فتویٰ نمبر:
4758/297/328

امام اور ایک مقتدی ہو تو تیسرے شخص کا تشہد میں شامل ہونے کا طریقہ سوالایک امام اور ایک مقتدی تشہدکی حالت میں ہوں تو تیسر...
22/07/2026

امام اور ایک مقتدی ہو تو تیسرے شخص کا تشہد میں شامل ہونے کا طریقہ

سوال

ایک امام اور ایک مقتدی تشہدکی حالت میں ہوں تو تیسرا نمازی کس جانب شامل ہوگا؟

جواب
صورت مسئولہ میں اگر قعدہ اخیرہ نہ ہو تو یہ شخص امام اور مقتدی کے اٹھنے کا انتظار کرے، پھر مقتدی کو چاہیے کہ وہ پیچھے ہوجائے یا تیسرا آدمی مقتدی کو تھوڑا سا پیچھے کی طرف کھینچ لے، اگر تیسرا آدمی بھی امام کے برابر کھڑا ہوجائے تو امام کو چاہیے کہ دونوں مقتدیوں کو اشارے سے پیچھے کردے، البتہ اگر پیچھے کی جانب جگہ نہ ہو تو امام کو چاہیے کہ وہ آگے ہوجائے اور تیسرا آدمی امام کے پیچھے پہلے مقتدی کے برابر میں کھڑا ہو جائے اور اگر تیسرا آدمی قعدہ اخیرہ کے تشہد کے دوران جماعت میں شامل ہورہا ہے تو پھر وہ امام کے برابر میں بائیں طرف کھڑا ہوکر اقتدا کرے، نہ کوئی پیچھے ہٹے اور نہ ہی کوئی آگے جائے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"والذي يظهر أنه ينبغي للمقتدي التأخر إذا جاء ثالث فإن تأخر وإلا جذبه الثالث إن لم يخش إفساد صلاته، فإن اقتدى عن يسار الإمام يشير إليهما بالتأخر، وهو أولى من تقدمه لأنه متبوع ولأن الاصطفاف خلف الإمام من فعل المقتدين لا الإمام، فالأولى ثباته في مكانه وتأخر المقتدي، ويؤيده ما في الفتح عن صحيح مسلم «قال جابر سرت مع النبي - صلى الله عليه وسلم - في غزوة فقام يصلي فجئت حتى قمت عن يساره فأخذ بيدي فأدارني عن يمينه، فجاء ابن صخر حتى قام عن يساره فأخذ بيديه جميعا فدفعنا حتى أقامنا خلفه» اهـ وهذا كله عند الإمكان وإلا تعين الممكن. والظاهر أيضا أن هذا إذا لم يكن في القعدة الأخيرة وإلا اقتدى الثالث عن يسار الإمام ولا تقدم ولا تأخر ."

(كتاب الصلاة، باب الإمامة، ج1، ص568، سعيد)

فقط والله أعلم

فتویٰ نمبر : 144408101551

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

سجدہ سھو کا مکمل طریقہ سوالبراہِ کرم سجدہ سہو کا مکمل طریقہ بتائیں. کیا سجدہ سہو کے لیے قعدہ اخیرہ میں تشھد کے بعد درود ...
22/07/2026

سجدہ سھو کا مکمل طریقہ

سوال

براہِ کرم سجدہ سہو کا مکمل طریقہ بتائیں. کیا سجدہ سہو کے لیے قعدہ اخیرہ میں تشھد کے بعد درود اور اس کے بعد دعا پڑھ کر داہنے طرف سلام پھیر کر دو سجدہ کر سکتے ہیں اور پھر سجدہ سہو کے بعد اب صرف تشھد پڑھ کر نماز پوری کر سکتے ہیں؟

جواب
سجدہ سہو کا طریقہ یہ ہے کہ قعدہ اخیرہ میں پوری التحیات پڑھنے کے بعد (درود شریف اور دعا پڑھے بغیر) صرف دائیں طرف سلام پھیر کر دو سجدے کرلیے جائیں، اور ہر سجدے میں حسبِ معمول "سبحان ربي الأعلى" کہے اور سجدے کے بعد بیٹھ کر التحیات، درود شریف اور دعا پڑھ کر دائیں اور بائیں سلام پھیر دیا جائے۔ نصوص کی روشنی میں فقہاءِ احناف نے اسی طریقے کو ترجیح دی ہے، لہٰذا فقہ حنفی کے مطابق اسی پر عمل کیا جائے۔

سوال میں مذکورہ طریقہ سجدہ سہو کے لیے مسنون نہیں، البتہ اگر کوئی قعدہ اخیرہ میں بھول کر تشہد، درود شریف اور دعا پڑھ چکا ہو، اور پھر اسے یاد آئے کہ مجھ پر سجدہ سہو لازم ہے، تو اسی وقت دائیں طرف سلام پھیرنے کے بعد وہ سہو کے دو سجدے کرکے دوبارہ التحیات، درود شریف اور دعا پڑھ کر سلام پھیرے تو سجدہ سہو ادا ہوجائے گا۔

الفتاوى الهندية (1/ 125):
"(الباب الثاني عشر في سجود السهو) وهو واجب، كذا في التبيين هو الصحيح، كذا في الهداية والوجوب مقيد بما إذا كان الوقت صالحا حتى إن من عليه السهو في صلاة الصبح إذا لم يسجد حتى طلعت الشمس بعد السلام الأول سقط عنه السجود وكذا إذا سها في قضاء الفائتة فلم يسجد حتى احمرت وكل ما يمنع البناء إذا وجد بعد السلام يسقط السهو، كذا في البحر الرائق.

وفي القنية لو بنى النفل على فرض سها فيه لم يسجد، كذا في النهر الفائق ومحله بعد السلام سواء كان من زيادة أو نقصان.

ولو سجد قبل السلام أجزأه عندنا هكذا رواية الأصول ويأتي بتسليمتين هو الصحيح، كذا في الهداية". فقط والله أعلم

فتویٰ نمبر : 144112200494

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

مسجد کی پرانی اشیاء کی فروختگی اور اس کے استعمال کا حکم سوالاگر کوئی شخص مقامی مسجد میں کوئی پرانی چیز مثلاً: پنکھا، بلب...
22/07/2026

مسجد کی پرانی اشیاء کی فروختگی اور اس کے استعمال کا حکم

سوال
اگر کوئی شخص مقامی مسجد میں کوئی پرانی چیز مثلاً: پنکھا، بلب، بٹن، نلکا یا چٹائی وغیرہ ہٹا کر اس کی جگہ نئی چیزیں اپنے پیسوں سے لگائے تو کیا اس بندے کے لیے وہی پرانی چیزیں اپنی ذاتی استعمال میں لانا جائز ہوگا؟

اور کوئی دوسرا شخص پیسے دے کر وہ پرانی چیزیں ذاتی استعمال میں لا سکتا ہے یا نہیں؟یا اس کے علاوہ کوئی تیسرا شخص بغیر پیسے دیے مسجد کی پرانی چیزیں ذاتی استعمال میں لا سکتا ہے؟

جواب
واضح رہے کہ مسجد کے لیے وقف کی گئی اشیاء کے متعلق حکم یہ ہے کہ وہ چیزیں مسجد ہی کی ملکیت ہوتی ہیں، اور ان کا استعمال اسی مسجد میں ضروری ہوتا ہے۔ تاہم اگر اس مسجد میں ان وقف شدہ اشیاء کی فی الحال ضرورت نہ ہو، لیکن آئندہ ان کے استعمال کی امید ہو، اور وہ اشیاء محفوظ بھی رکھی جا سکتی ہوں، تو ایسی صورت میں بلا ضرورت انہیں فروخت کرنا درست نہیں ہوگا، بلکہ انہیں محفوظ رکھا جائے تاکہ ضرورت کے وقت دوبارہ اسی مسجد میں استعمال کی جا سکیں۔

البتہ اگران اشیاء کے آئندہ استعمال کی کوئی امید نہ ہو، یا انہیں محفوظ رکھنا ممکن نہ ہو، یا ان کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہو تو ایسی صورت میں مسجد کے زیرِ استعمال اشیاء میں سے صفیں، دریاں، قالین وغیرہ کو (جو زائد از ضرورت ہوں) ترجیحاً کسی دوسری مسجد کو، جہاں ان کی ضرورت ہو، قیمتاً دینا زیادہ مناسب ہے، تاکہ اس کی بے احترامی نہ ہو۔ اس کے علاوہ دیگر اشیاء (جیسے پنکھے، بلب، لائٹ، نلکے وغیرہ) مناسب قیمت پر کسی بھی دوسری مسجد یا شخص کو فروخت کرنا جائز ہے۔ اور اگر یہ چیزیں کسی دوسری مسجد میں قیمتاً دینے کی صورت نہ بنے تو بازاری قیمت پر فروخت کرکے اس کی رقم اسی مسجد میں خرچ کی جائے گی۔

لہٰذا اگر کوئی شخص مسجد کی پرانی چیزیں ہٹا کر اس کی جگہ نئی چیزیں اپنے پیسوں سے لگائے، تو شرعًا یہ عمل نہ صرف جائز، بلکہ باعثِ ثواب بھی ہے۔ پھر ہٹائی گئی پرانی چیزیں اگر مسجد کی ضرورت سے زائد ہوں اور اسے محفوظ رکھنے کی صورت میں ضائع ہونے کا اندیشہ ہو تو ایسی صورت میں نئی چیزیں لگانے والا شخص اگر صاحبِ حیثیت ہو تو بہتر ہے کہ وہ پرانی چیزیں مناسب قیمت ادا کرکے خرید لے اور اپنے استعمال میں بھی لا سکتا ہے۔ لیکن اگر وہ صاحبِ حیثیت نہ ہو اور مزید رقم دے کر پرانی چیزیں خریدنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو ایسی صورت میں نئی چیزیں لگانے سے قبل مسجد کی انتظامیہ کو اپنے ارادے پر مطلع کردے، اور انہیں یہ بھی کہہ دے کہ نئی چیزیں لگا کر پرانی چیزیں میں اپنے ساتھ لے جاؤں گا۔ پس اگر وہ اسے مناسب سمجھیں اور اس میں مسجد کا فائدہ بھی ہو تو نئی چیزیں لگا کر اس کے عوض مسجد کی پرانی چیزیں لینا اور اسے اپنے استعمال لانا جائز ہوگا۔

باقی مسجد کی زائد از ضرورت اشیاء کی فروختگی کی صورت میں کوئی بھی شخص قیمت ادا کرکے ان اشیاء کو خرید سکتا ہے، اور انہیں اپنے استعمال میں لا سکتا ہے۔ لیکن مسجد کی اشیاء کا بلامعاوضہ لینا اور انہیں اپنے استعمال میں لانا جائز نہیں ہے، اگر لینا ہو تو مناسب قیمت دے کر لیا جائے۔

فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

"رجل بسط من ماله ‌حصيرا في المسجد فخرب المسجد ووقع الاستغناء عنه.... وعند أبي يوسف - رحمه الله تعالى - يباع ويصرف ثمنه إلى حوائج المسجد فإن استغنى عنه هذا المسجد يحول إلى مسجد آخر.....

وذكر أبو الليث في نوازله ‌حصير المسجد إذا صار خلقا واستغنى أهل المسجد عنه.... أرجو أن لا بأس بأن يدفع أهل المسجد إلى فقير أو ينتفعوا به في شراء ‌حصير آخر للمسجد والمختار أنه لا يجوز لهم أن يفعلوا ذلك بغير أمر القاضي، كذا في محيط السرخسي."

(كتاب الوقف، الباب الحادي عشر، الفصل الأول، ج:2، ص:458، ط:المكتبة الرشيدية كوئته)

وفيه أيضاً:

"الفاضل من وقف المسجد هل يصرف إلى الفقراء؟ قيل: لا يصرف وأنه صحيح ولكن يشتري به مستغلا للمسجد، كذا في المحيط."

(كتاب الوقف، الباب الحادي عشر، الفصل الثاني، ج:2، ص:463، ط:المكتبة الرشيدية كوئته)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(قوله: ومثله حشيش المسجد إلخ) أي الحشيش الذي يفرش بدل الحصر، كما يفعل في بعض البلاد كبلاد الصعيد كما أخبرني به بعضهم قال الزيلعي: وعلى هذا حصير المسجد وحشيشه إذا استغنى عنهما يرجع إلى مالكه عند محمد وعند أبي يوسف ينقل إلى مسجد آخر، وعلى هذا الخلاف الرباط والبئر إذا لم ينتفع بها اهـ وصرح في الخانية بأن الفتوى على قول محمد قال في البحر: وبه علم أن الفتوى على قول محمد في آلات المسجد وعلى قول أبي يوسف في تأبيد المسجد اهـ والمراد بآلات المسجد نحو القنديل والحصير، بخلاف أنقاضه لما قدمنا عنه قريبا من أن الفتوى على أن المسجد لا يعود ميراثا ولا يجوز نقله ونقل ماله إلى مسجد آخر."

(کتاب الوقف، ج:4، ص:359، ط:ایج ایم سعید)

فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے:

”سوال: منتظم مسجد، مسجد کے بوسیدہ فرش یا بوسیدہ لکڑی وغیرہ کو فروخت کر کے نیا فرش وغیرہ خرید سکتا ہے یا نہیں؟ اور پرانے سامان کو اپنے استعمال میں لاسکتا ہے یا نہیں؟ اور دوسرے محتاج نمازیوں کو تبرعًا دے سکتا ہے یا نہیں؟

جواب: اس پرانے سامان کو فروخت کر کے اس کی قیمت کو اس مسجد میں صرف کرنا چاہیے، تبرعًا کسی کو دینا یا بلا قیمت اپنے استعمال میں لانا جائز نہیں ہے۔“

(مسجد کی اشیاء اور بوسیدہ چیزوں کا بیان، ج:13، ص:480، ط:دار الاشاعت کراچی)

امداد المفتین میں ہے:

”سوال: ایک شخص نے کسی خاص مسجد کے ستون لگانے کے لیے لکڑی وقف کی اور اب اس لکڑی کی اس مسجد میں ضرورت نہ رہی، تو یہ لکڑی دوسری مسجد میں لگانا درست ہے یا نہیں؟

جواب: درست نہیں، بلکہ اس کو فروخت کر کے اس مسجد کے دوسرے مصارف میں لگایا جائے یا محفوظ رکھا جائے کہ آئندہ ضرورت ہو تو اس میں صرف کیا جائے گا۔“

(کتاب الوقف، احکام المساجد، ص:641، ط:دار الاشاعت کراچی)

فتاویٰ رحیمیہ میں ہے:

”مسجد کا پرانا ملبہ اینٹ وغیرہ قابلِ احترام ہے، مناسب ہے کہ مسجد ہی میں کسی مناسب جگہ استعمال کیا جائے..... ناپاک جگہ اور جہاں بے ادبی ہو، وہاں استعمال نہ کیا جائے، اگر بیچنے کی ضرورت ہو توکسی مسلمان کو بیچا جائے اور اسے ہدایت کردی جائے کہ یہ مسجد کا ملبہ ہے، اسے ایسی جگہ استعمال کیا جائے جہاں بے ادبی نہ ہو، غیر مسلم کونہ بیچا جائے، اس کو بیچنے میں بے ادبی کا قوی اندیشہ ہے۔“

(کتاب الوقف، احکام المساجد والمدارس، ج:9، ص:129، ط:دار الاشاعت کراچی)

فقط والله اعلم

فتویٰ نمبر : 144702101934

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر جھوٹی قسم کھانا سوالایک شخص  نے  قرآن  پر  ہاتھ  رکھ  کر جھوٹی قسم کھائی، اب اس شخص کے لیے کیا ح...
22/07/2026

قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر جھوٹی قسم کھانا

سوال

ایک شخص نے قرآن پر ہاتھ رکھ کر جھوٹی قسم کھائی، اب اس شخص کے لیے کیا حکم ہے?

جواب
قرآنِ کریم پر ہاتھ رکھ کر جھوٹی قسم کھاناسخت ترین گناہِ کبیرہ ہے۔حدیث شریف میں جھوٹی قسم کو شرک وغیرہ کے بعدبڑا اورسنگین گناہ کہاگیا ہے اورحلف جب قرآن پر ہاتھ رکھ کرہوتو اس گناہ کی سنگینی از حد بڑھ جاتی ہے، بہرحال اب توبہ استغفارکیاجائے، گڑگڑا کر اللہ سے معافی مانگی جائے اورآئندہ کے لیے اس طرح نہ کرنے کا عزم کرلیا جائے۔

اور توبہ کی تکمیل یہ ہے کہ اس قسم کے نتیجے میں اگر کسی کا نقصان ہوا ہے تو اس کی تلافی کرے، البتہ جھوٹی قسم کی صورت میں کفارہ نہیں ہے۔

صحيح البخاري (8/ 137):
"حدثنا فراس، قال: سمعت الشعبي، عن عبد الله بن عمرو، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " الكبائر: الإشراك بالله، وعقوق الوالدين، وقتل النفس، واليمين الغموس". فقط واللہ اعلم

فتویٰ نمبر : 144107200623

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

22/07/2026

سر میں جووؤں کی دوائی لگا کر نماز پڑھنے کا حکم

سوال

اگر سر میں کوئی دوائی لگی ہو ( جو ئیں مار نے کی دوائی) تو ایسی صورت میں نماز اور وضو ہوجا ئےگا؟

جواب
صور ت ِمسئولہ میں اگر جوئیں مارنے کی دوائی میں کوئی ناپاک چیز ملی ہوئی نہ ہو اور اس سے بالوں پر تہہ نہ بنتا ہو تو ایسی دوائی سر پرلگی ہو تو اس حالت میں وضوکرنادرست ہے اوراس وضوسےنمازبھی درست ہے ،اور اگر اس سے بالوں پر تہہ بن جاتا ہے اور وہ سر اور بالوں تک پانی پہنچنے کے لیے مانع ہو تو اس کو ہٹانے کے بغیر وضو، غسل درست نہیں ہو گا۔

تکملۃ فتح الملہم میں ہے:

"فإنها تستعمل في كثير من الأدوية و العطور و المركبات الأخرى، فإنها إن اتخذت من العنب أو التمر فلا سبيل إلى حلتها أو طهارتها، و إن اتخذت من غيرهما فالأمر فيها سهل على مذهب أبي حنيفة رحمه الله تعالى، و لايحرم استعمالها للتداوي أو لأغراض مباحة أخرى ما لم تبلغ حد الإسكار، لأنها إنما تستعمل مركبة مع المواد الأخرى، ولايحكم بنجاستها أخذاً بقول أبي حنيفة رحمه الله. و إن معظم الحكول التي تستعمل اليوم في الأودية و العطور و غيرهما لاتتخذ من العنب أو التمر، إنما تتخذ من الحبوب أو القشور أو البترول و غيره، كما ذكرنا في باب بيوع الخمر من كتاب البيوع."

(كتاب الأشربة، حكم الكحول المسكرة، ٣/ ٦٠٨، ط: مكتبة دار العلوم)

فقط واللہ اعلم

فتویٰ نمبر : 144602100373

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

Send a message to learn more

Address

Lahore
54000

Telephone

03218859040

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Rahe Sunnat posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Rahe Sunnat:

Shortcuts

Share