05/02/2026
حضرت عبدالرحمن بن سعد فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی ﷲ عنہما کی مجلس میں بیٹھا تھا کہ ان کاپائوں سُن ہو گیا۔ میں نے اُن سے پوچھا کہ ابو عبدالرحمن آپ کے پاؤں کو کیا ہوگیا ہے؟ انہوں نے کہا : پٹھے اکڑا گئے ہیں۔ اس پر میں نے عرض کیا :
اُدع أَحَبَّ النَّاسِ إِلَيْکَ. قَالَ : يَا مُحَمَّدُ، فَانْبَسَطَتْ.
’’جو ہستی آپ کو سب سے زیادہ محبوب ہے اُس کا نام لیجئے۔ حضرت عبداللہ بن عمررضی ﷲ عنہما نے حضور پاک کو بلند آواز سے پکارا : يَا مُحَمَّدُ! (صلی اﷲ علیک وسلم!) دوسرے ہی لمحے ان کا پائوں ٹھیک ہو چکا تھا۔‘‘
ابن جعد، المسند : 369، رقم : 2539
بخاری، الأدب المفرد، 1 : 335، رقم : 964
قاضی عیاض، الشفاء، 2 : 18
ابن سعد، الطبقات الکبری، 4 : 154
نووی، الأذکار، 1 : 700، رقم : 787
ابن تیمیۃ، الکلم الطیب، 1 : 173، رقم : 236
علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے اسی حقیقت کو یوں بیان فرمایا ہے :
قوتِ عشق سے ہر پست کو بالا کر دے
دہر میں اسمِ محمد ﷺ سے اجالا کر دے
ایک اور مقام پر فرماتے ہیں :
آبروئے ما ز نامِ مصطفیٰ ﷺ است
در دلِ مسلم مقامِ مصطفیٰ ﷺ است