18/05/2026
——Iram ki qalam sy
series:EP 7
DARD JHOOT BOLTA HY
*درد جھوٹ بولتا ہے – ٹوٹے ہوئے رشتوں کی حقیقت*
جب میں نے ٹوٹا ہوا کپ دیکھا تو پہلا خیال یہی آیا کہ ہمارے رشتے بھی اسی طرح ہوتے ہیں۔ باہر سے جڑے ہوئے، اندر سے بالکل ٹوٹے ہوئے۔
یہ کپ اب بھی پوری شکل میں ہے، لیکن نہ اس میں وہ خوبصورتی رہی، نہ وہ مضبوطی۔ ہم بھی اکثر اپنے رشتوں کو اسی طرح کمزور تاروں سے جوڑ کر رکھتے ہیں۔ اوپر سے سب ٹھیک لگتا ہے، لیکن اندر زندگی ختم ہو چکی ہوتی ہے۔
رشتے ایک دن میں نہیں ٹوٹتے۔
چھوٹی چھوٹی باتیں، نظر انداز کیے گئے جذبات، *ہر بار کی بےعزتی*، جھوٹا بھروسہ – یہ سب *آہستہ آہستہ* دل کے اندر دراریں ڈال دیتے ہیں۔ اور ایک دن سب بکھر جاتا ہے۔
سب سے بڑا درد یہ نہیں ہوتا کہ رشتہ ٹوٹا۔
سب سے بڑا درد یہ ہوتا ہے کہ ہم اسی رشتے کو بچانے کی *کوشش* کرتے رہتے ہیں، اس امید پر کہ شاید اس بار سب ٹھیک ہو جائے۔
لوگ کہتے ہیں: "بھول جاؤ، معاف کر دو۔"
معاف کرنا آسان ہے، لیکن بھولنا مشکل۔
جب کوئی بات دل پر لگ جائے، جب وہ الفاظ رات دن کانوں میں گونجتے رہیں، تو انہیں بھولنا ممکن نہیں رہتا۔
درد جھوٹ بولتا ہے۔
وہ کہتا ہے "اگر تم اور *کوشش* کرو گی تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔"
لیکن حقیقت یہ ہے کہ جس کی فطرت میں توڑنا ہو، وہ توڑتا رہتا ہے۔ تم کتنی بھی *کوشش* کر لو، اس رشتے میں نہ وہ عزت واپس آتی ہے، نہ وہ سکون۔
بات چیت ہوتی ہے، ملنا جلنا ہوتا ہے، محفلیں بھی سجتی ہیں…
پر دل کے کسی کونے میں وہ خاموش درد رہتا ہے۔
دل کہتا ہے "اب احتیاط کرو۔" اور یہی احتیاط رشتے کی گرمجوشی کو ٹھنڈا کر دیتی ہے۔
اب سوال یہ ہے:
کیا ہر رشتہ جوڑ کر رکھنا ضروری ہے؟
کیا زبردستی کے رشتے صرف بوجھ نہیں بن جاتے؟
کیا ہمیں یہ سمجھنا نہیں چاہیے کہ کن رشتوں کو بچانا ہے اور کن کو چھوڑ دینا ہے، تاکہ زندگی آسان ہو جائے؟
*آپ اس بارے میں کیا سوچتے ہیں؟ اپنی رائے ضرور دیجیے۔*
---