05/05/2026
شیخ العرب والعجم، حضرت شیخ ادریس صاحب…
آج دل بوجھل ہے، آنکھیں اشکبار ہیں، اور الفاظ ساتھ چھوڑتے محسوس ہو رہے ہیں۔ وہ ہستی جس نے ہزاروں شاگردوں کو علمِ دین سے آراستہ کیا، جو ہزاروں طلبہ کے معلم، مربی اور رہنما تھے، جو منصبِ شیخ الحدیث پر فائز ہو کر حدیثِ نبوی ﷺ کی خدمت میں اپنی زندگی کھپا گئے—آج ہم سے جدا ہو گئے۔
وہ صرف ایک استاد نہیں تھے، بلکہ ایک ادارہ تھے… ایک روشنی تھے… ایک ایسا چراغ تھے جس سے ہزاروں چراغ روشن ہوئے۔ ان کی مجالس علم و حکمت کا گلزار تھیں، ان کی گفتگو میں اخلاص، ان کے انداز میں شفقت، اور ان کی زندگی سراپا سنت کی عملی تصویر تھی۔
آج امت ایک عظیم خسارے سے دوچار ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم ان کی قدر ان کی زندگی میں نہ کر سکے۔ ان کے سائے میں بیٹھ کر بھی ہم اس نعمت کی عظمت کو پوری طرح نہ پہچان سکے۔ اور اب جب وہ ہم سے جدا ہو گئے تو دل حسرت سے بھر گیا ہے، آنکھیں نم ہیں، اور دل یہ کہنے پر مجبور ہے کہ ہم ایک عظیم سرمایہ کھو بیٹھے۔
وہ زینتُ المحدّثین تھے—محدثین ان پر فخر کیا کرتے تھے۔ علم، حلم، تقویٰ اور اخلاص کا حسین امتزاج تھے۔ ان کی جدائی نے دلوں کو توڑ دیا ہے، روح کو جھنجھوڑ دیا ہے، اور ایک ایسا خلا پیدا کر دیا ہے جو شاید کبھی پُر نہ ہو سکے۔
اے اللہ! ہمارے اس عظیم شیخ کی مغفرت فرما، ان کے درجات بلند فرما، ان کی قبر کو نور سے بھر دے، اور انہیں اپنے مقرب بندوں اور شہداء کے ساتھ جگہ عطا فرما۔
اور ہمیں صبر عطا فرما… کیونکہ واقعی ہم ایک عظیم انسان، ایک عظیم استاد، اور ایک عظیم شخصیت سے محروم ہو گئے ہیں۔
إنا لله وإنا إليه راجعون۔