31/01/2025
قسط 12
یہ سفر ایک عشق بھری داستان ہے، جہاں ہر لمحہ التجا میں ڈھلا ہوا ہے، ہر سانس دعا بنی ہوئی ہے، اور ہر آنسو قبولیت کا پیغام لے کر بہہ رہا ہے۔ جب قدم نبی آخر الزماں کے شہر میں داخل ہوئے، تو ایک عجیب سا سکون دل میں اتر آیا، جیسے کوئی برسوں کا بوجھ لمحے بھر میں ہلکا ہو گیا ہو۔ مکہ مکرمہ کی گلیاں، وہاں کی تیزی، ہر طرف روشنیوں کی جھلک، رونق، ایک مسلسل حرکت کا منظر تھا، لیکن مدینہ طیبہ… یہ تو بالکل مختلف تھا، ایک خاموش، پُرسکون، ٹھہراؤ بھرا شہر، جہاں ہر چیز میں عجب سی اپنائیت تھی، جیسے یہ شہر اپنے مہمانوں کو خود تھام لیتا ہو، بانہوں میں سمیٹ لیتا ہو۔
عشاء کے وقت ہوٹل کے کمرے میں پہنچے، نہا دھو کر مسجدِ نبوی کی طرف نکلے۔
ہمارے ہوٹل سے گیٹ نمبر 338 دو بلاک چھوڑ کر تھا، اور اس کی سیدھ میں خواتین کے لیے داخلہ گیٹ نمبر 25 سے تھا۔ جیسے ہی مسجد میں داخل ہوئی، آنکھوں سے آنسو بے اختیار بہنے لگے۔ دل میں ایک عجیب سی بےچینی اور اضطراب اٹھنے لگا، جیسے یہاں پہنچ کر بھی کوئی تشنگی باقی ہو، کوئی دعا ادھوری ہو، کوئی حسرت باقی ہو۔ نماز ادا کی، کچھ دیر صحن میں بیٹھ کر روضۂ رسول کی طرف دیکھتی رہی، دل میں ہزاروں جذبات کی کہانی تھی۔
ریاض الجنہ کے لیے Nusuk ایپ پہلے ہی ڈاؤن لوڈ کر لی تھی، بچوں کے موبائل پر بھی انسٹال کی تھی۔
ایک ماہ سے مسلسل سب کوشش کر رہے تھے، بار بار چیک کر رہے تھے، مگر ریاض الجنہ کا وقت نہیں مل رہا تھا۔ اب تو ہر 15 منٹ میں پرمٹ ملنے لگا ہے، لیکن نومبر 2024 تک صرف سال میں ایک بار پرمٹ ملتا تھا۔ جتنا بھی کوشش کرتے، تاریخیں دستیاب ہی نہیں ہو رہی تھیں۔ دل گھبرا رہا تھا، بار بار دعا کرتی، الله سے فریاد کرتی کہ یاالله! میرا بلاوا کب آئے گا؟
مسجد میں ایک Nusuk کا نمائندہ نظر آیا، فوراً جا کر اپنی بےقراری کا اظہار کیا کہ ایک مہینے سے کوشش کر رہی ہوں، مگر اپوائنٹمنٹ نہیں مل رہی۔
وہ مسکرا کر کہنے لگا: "Keep trying, if you are lucky, you will get it."
یہ جملہ دل پر بجلی کی طرح گرا!
یاالله! کیا میں "لکی" نہیں؟ کیا میں محروم رہ جاؤں گی؟
دل میں ایک بوجھ سا محسوس ہونے لگا، جیسے کوئی حسرت سینے میں دبنے لگی ہو۔ مسجد میں کھڑے ہو کر درد بھری دعا کی، درود و سلام پیش کیا، اور بوجھل قدموں کے ساتھ کمرے میں واپس آ گئی۔ اگلے دن مسجد قبا گۓ ۔ ہیاں 2 نوافل کا ایک عمرے کے برابر ثواب ملتا ہے۔ نوافل ادا کرکے ظہر تک کمرے میں واپس آگے۔
عصر کے قریب میں جنت البقیع کے قریب Nusuk کے دفتر گی انہوں نے بھی keep trying کا مشورہ دیا۔
باہر پریشان نکلی تو مسجد کا ایک خادم جو غالباً ایک انڈین تھا اس نے کہا کہ میری بیوی کے پاس پرمٹ ہے۔ اگر آپ wheelchair پہ بیٹھ کے اس کے ساتھ جانا چاہے تو وہ آپ کو لے جاۓ گی۔ میں نے کہا کہ بھائی میں تو نہیں بیٹھو گی wheelchair پہ۔ ہاں کسی wheelchair والی خاتون کو لے جانا ہے تو وہ میں لے جاؤں گی۔
الله سے دعا کی پرمٹ کی وجہ سے جانے سے معذور ہوں مگر ایسے کسی طریقے سے حاضری نہیں دوں گی۔ اے ربِ کائنات میرے لئے کن فیکون کا معاملہ کردے کوئ معجزہ کردے۔ اور اس نے میری دعاکو شرف قبولیت بخشا۔
پھر معجزے ہونے لگے! کن فیکون… پھر ہونے لگا!
اس دن بہت کوشش کی ۔ بار بار مگر پرمٹ نہ ملا۔
اگلے دن طبیعت بھاری بھاری تھی۔ اس دن زیارات کا پروگرام تھا۔ سب لوگ چلے گے میں طبیعت کی وجہ سے روم میں ہی رک گئ۔
✨ پہلا معجزہ:
مغرب کی نماز سے کچھ پہلے مسجد چلی گئ تھی ۔ اندر بیٹھی ہوئی تھی کہ اچانک موبائل پر نوٹیفکیشن آیا، حالانکہ میرے پاس انٹرنیٹ بھی نہیں تھا، نہ ہی کسی وائی فائی سے جُڑی تھی!
فوراً Nusuk ایپ کھولی، دوبارہ کوشش کی، اور حیرت! عشاء کے بعد کا اپوائنٹمنٹ نظر آ گیا۔ دل کی دھڑکن تیز ہو گئی، امید کی کرن جاگ اٹھی، مگر QR کوڈ نہیں آ رہا تھا۔
مغرب کی نماز پڑھ کر کمرے میں گئی، پھر کوشش کی، مگر کوڈ نہیں آیا۔ دل میں عجب سا خوف بیٹھنے لگا، لیکن ایک امید تھی کہ اگر الله نے یہاں تک پہنچایا ہے، تو یقیناً آگے کا راستہ بھی کھولے گا۔
✨ دوسرا معجزہ:
عشاء کے بعد ریاض الجنہ کے دروازے پر پہنچی۔
ہر کسی کا QR کوڈ چیک کیا جا رہا تھا، قطاریں لگی تھیں، سختی سے تفتیش ہو رہی تھی، اور پھر… جب میری باری آئی، کسی نے کچھ نہیں پوچھا، کوئی کوڈ نہیں مانگا، بس ایک جملہ کہا:
"جاؤ اندر!"
دل دہل گیا، کیا واقعی؟! میں حیرت سے دروازے کے اندر داخل ہو گئی، آنکھیں نم تھیں، ہونٹ کانپ رہے تھے، دل میں صرف ایک سرگوشی تھی:
"YES, I AM LUCKY!"
✨ تیسرا معجزہ:
اندر جا کر دوبارہ ایک لائن میں کھڑا کر دیا گیا، وہاں QR کوڈ اسکین ہو رہے تھے۔
دل میں ایک اور دھڑکا! اب اگر کوڈ چیک کیا گیا اور نہ ملا، تو؟
میں نے ایک اہلکار سے کہا، "میرا QR کوڈ نہیں آیا"
اس نے مسکرا کر ایک طرف اشارہ کیا۔
میں اس طرف بڑھی، وہاں ایک اور شخص کھڑا تھا، دل بھر آیا، آنسو قابو میں نہیں تھے، روتے ہوئے اپنی پوری داستان سنا دی، اور وہ مسکرا کر بولا:
"Don’t worry."
پھر اس نے اپنی جیب سے ایک کاغذ نکالا، اس پر کچھ اسکین کیا اور کہا:
"Go sister, it’s your time!"
میں نے بے یقینی سے دوبارہ پوچھا: "کیا واقعی میں جا سکتی ہوں؟"
وہ ہلکا سا مسکرایا اور بولا: "YES."
پھر قدم اُٹھنے لگے، لیکن دل یقین نہیں کر رہا تھا…
ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے ہواؤں میں اُڑ رہی ہوں، جیسے ہر راستہ خود بخود کھل رہا ہو، جیسے کوئی مجھے آواز دے رہا ہو، "آ جاؤ عائشہ!"
ریاض الجنہ پہنچ کر نوافل ادا کیے، وہ کیفیت، وہ لمحہ، وہ سجدے… وہ سب الفاظ سے باہر تھے۔
✨ چوتھا معجزہ:
اگلے روز فجر کے بعد دوبارہ روضہ کی طرف گئی، اور پھر ایک اور معجزہ میرا منتظر تھا۔
ریاض الجنہ میں تعمیراتی کام شروع ہونے والا تھا۔ جس کے باعث روضہ دو دن کے لیۓ بند ہونے والا تھا لہذا صبح میں سب خواتین کے لیے دروازہ کھول دیا گیا۔بند دروازے میرے لیے کھلتے جا رہے تھے…
دل میں سرگوشی ہونے لگی:
"عائشہ! آ جاؤ!"
جب مخلوقات میں سب سے افضل آپ کا میزبان ہو اور وہ خود دروازے کھول دے، تو پھر کس نعمت اور رحمسے انکار ہے؟
دوبارہ نوافل ادا کیے، اب تو یقین آ چکا تھا کہ Definitely I am lucky
یہ ایک ایسا عشق تھا جو الفاظ میں بیان نہیں ہو سکتا، ایسا عشق جو دل پر نقش ہو چکا تھا، ایسا عشق جو روح کو ہلا کر رکھ دے۔
مسجد نبوی کی فضا میں چلتے ہوئے، درِ مصطفیٰ پر کھڑے ہو کر دل میں بس یہی دعا تھی:
"یاالله! یہاں سے واپس نہ جانا پڑے، درِ مصطفیٰ پر ہی زندگی گزر جائے!"
لیکن وقت رکتا نہیں، مقدر کے فیصلے بدلے نہیں جا سکتے تھے۔
بوجھل قدموں سے ہوٹل واپس آئی، مگر دل وہیں چھوڑ آئی۔