Ayshman

Ayshman Education
Acquire better to be better

20/11/2025

کچھ دن پہلے میں فوڈ کورٹ میں بیٹھی، کافی ☕ enjoy کر رہی تھی…
آس پاس usual ہلچل trays کی کھنک، بچوں کی شور شرابہ، اور popcorn کی خوشبو 🍿

اچانک میری توجہ دو Gen Z بچیوں کی باتوں پر رک گئی…

پہلی:
"جو نماز قضا کرتا ہے، اس کو گناہ ملتا ہے۔"
میں دل ہی دل میں: “شاباش! بچیاں بھی دین کی باتیں کر رہی ہیں
دوسری:"میرا بھائی چار نمازیں روز قضا کرتا ہے… عشاء کے وقت سب پڑھ لیتا ہے اور کہتا ہے، ‘میں نے اللہ سے معافی مانگ لی۔"

پہلی:
“مجھے تو اس مسئلے کا پتہ ہی نہیں… چلو ChatGPT سے پوچھتے ہیں

میں نے سوچا… کیا زمانہ آ گیا
مولانا بھی AI، مفتی بھی AI… اور انسانی استاد کہیں چھپ گئے

میں نے prompt کیا
“ChatGPT، اس مسئلے کا حل بتاؤ۔”

اور AI نے full corporate confidence میں جواب دیا:
Agar chaho to mey tumhe ek chhoti si strategy bata doon ke kaise qaza namazon ka nuksan kam kar sakte hain aur Allah ka ajar maximize kar sakte hain. Kya main bataun?

میں نے ہاتھ ماتھے پر رکھ کر کہا:
“اللہ اللہ… اگر ان بچیوں کو بھی علامہ ChatGPT نے یہ جواب دیا ہوگا تو وہ سیدھا AI کے strategy/fatwa پر چل پڑیں گی۔

پھر مجھے قرآن کا روشن پیغام یاد آیا:

سورۃ الإسراء، آیت 78:
أَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي وَصَلِّ عَلَىٰ نَبِيِّكَ إِنَّ صَلَاتَكَ كَانَتْ مَشْهُودًا
"نماز قائم کرو میری یاد کے لیے اور اپنے نبی پر درود بھی بھیجو، بیشک تمہاری نماز دیکھی جا رہی ہے۔"
دل نے کہا:
“AI helpful ہے… پر اصل guidance وہی جو اللہ نے قرآن میں دی: وقت کی پابندی کے ساتھ نماز، دل سے توبہ اور معافی۔ یہی اصل رحمت ہےہ AI بہت معاملات میں ہمیں گائیڈ کرتا ہے

Food court کی ہلچل، Gen Z کی curiosity اور AI کے جواب
سب نے ایک light-hearted مگر powerful سبق دیا:
AI بہت معاملات میں ہمیں guide کرتا ہے،
دنیا جدید ہو رہی ہے، پر اللہ کی guidance ہمیشہ timeless ہے، بے شک!



18/10/2025

شوہر اور بیوی کا رشتہ — مذاق نہیں، محبت کی معراج ہے۔

ہماری سوسائٹی میں ہر دوسرا لطیفہ اسی رشتے پر کیوں بنتا ہے؟
کبھی سوچا کہ ہم اس پاکیزہ تعلق کو ہنسی کا موضوع کیوں بناتے ہیں؟

شاعری میں محبوبہ کے ناز و انداز تو بیان ہوتے ہیں
مگر بیوی کی محبت، قربانی اور وفاداری پر قلم کیوں کم چلتا ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ شوہر اور بیوی کا رشتہ دنیا کا سب سے پاکیزہ، سچا اور مقدس رشتہ ہے۔
یہ رشتہ صرف نکاح کے کاغذ پر نہیں،
بلکہ دو روحوں کے عہدِ وفا پر قائم ہوتا ہے۔

اسے مذاق نہیں، محبت، عزت اور دعا کا درجہ ملنا چاہیے۔

شوہر اور بیوی کا رشتہ وہ آئینہ ہے
جس میں محبت، صبر، اور بھروسہ ایک ساتھ نظر آتے ہیں۔
آئیں، اس رشتے کو لطیفوں کا نہیں، دعاؤں کا عنوان بنائیں۔
محبت کو عزت دیں، اور نکاح کو فخر سے اپنائیں۔


Teaching is the profession that creates all other professions.  I am forever grateful to the respected teachers who shap...
05/10/2025

Teaching is the profession that creates all other professions.
I am forever grateful to the respected teachers who shape minds and touch hearts. 🌍📖❤️
Ayesha learning lounge ALL


10/05/2025

بنیان المرصوص کی کامیابی صرف ہتھیاروں کی نہیں بلکہ دعاؤں کی قبولیت بھی ہے یہ اللّٰه کی نصرت کا زندہ ثبوت ہے۔ جب قوم سجدے میں جھکتی ہے تو بےشک آسمان سے مدد اترتی ہے۔ آج سیزفائر کی ہوا چل رہی ہے اور امید کے چراغ جل رہے ہیں۔
الحمدللّٰه
پاکستان زندہ باد۔🇵🇰

02/05/2025

```guide to setting up and using Google Family Link for managing your child's device:```

📱 *Google Family Link: Parental Control Made Easy*
🧩 _What You Need:_
+Parent Gmail: Your Google account on your device.

+Child Gmail: Your child's Google account on their device.

🔧 Setup Steps:
On Parent's Device:

+Download the Google Family Link app.

+Sign in with your Parent Gmail.
On Child's Device:

+Go to Settings > Parental Controls.

+Select Add Parent.

+Follow prompts to download Family Link for Children & Teens.

+Sign in with your Child Gmail.

+Enter the Parent Gmail credentials to link accounts.

🛠️ *Key Features:*
+Screen Time Limits: +Set daily usage limits.

+App Management: Approve or block app downloads.

+Content Filters: Restrict 18+ content on Google Play and Chrome.

+Location Tracking: View your child's device location.

+Device Lock: Remotely lock the device.
+Activity Reports: Monitor app usage and screen time.

+Device Ringing: Make the device ring to locate it.

+Account Management: Reset passwords or delete the child's account if necessary.

⚠️ *Important Notes:*
+Ensure you remember your Parent Gmail password.

+To remove supervision, you'll need to enter the Parent Gmail credentials on the child's device.


https://whatsapp.com/channel/0029VbAdp3Z8qIzus7WsbW3m/107

31/01/2025

قسط 12
یہ سفر ایک عشق بھری داستان ہے، جہاں ہر لمحہ التجا میں ڈھلا ہوا ہے، ہر سانس دعا بنی ہوئی ہے، اور ہر آنسو قبولیت کا پیغام لے کر بہہ رہا ہے۔ جب قدم نبی آخر الزماں کے شہر میں داخل ہوئے، تو ایک عجیب سا سکون دل میں اتر آیا، جیسے کوئی برسوں کا بوجھ لمحے بھر میں ہلکا ہو گیا ہو۔ مکہ مکرمہ کی گلیاں، وہاں کی تیزی، ہر طرف روشنیوں کی جھلک، رونق، ایک مسلسل حرکت کا منظر تھا، لیکن مدینہ طیبہ… یہ تو بالکل مختلف تھا، ایک خاموش، پُرسکون، ٹھہراؤ بھرا شہر، جہاں ہر چیز میں عجب سی اپنائیت تھی، جیسے یہ شہر اپنے مہمانوں کو خود تھام لیتا ہو، بانہوں میں سمیٹ لیتا ہو۔
عشاء کے وقت ہوٹل کے کمرے میں پہنچے، نہا دھو کر مسجدِ نبوی کی طرف نکلے۔
ہمارے ہوٹل سے گیٹ نمبر 338 دو بلاک چھوڑ کر تھا، اور اس کی سیدھ میں خواتین کے لیے داخلہ گیٹ نمبر 25 سے تھا۔ جیسے ہی مسجد میں داخل ہوئی، آنکھوں سے آنسو بے اختیار بہنے لگے۔ دل میں ایک عجیب سی بےچینی اور اضطراب اٹھنے لگا، جیسے یہاں پہنچ کر بھی کوئی تشنگی باقی ہو، کوئی دعا ادھوری ہو، کوئی حسرت باقی ہو۔ نماز ادا کی، کچھ دیر صحن میں بیٹھ کر روضۂ رسول کی طرف دیکھتی رہی، دل میں ہزاروں جذبات کی کہانی تھی۔

ریاض الجنہ کے لیے Nusuk ایپ پہلے ہی ڈاؤن لوڈ کر لی تھی، بچوں کے موبائل پر بھی انسٹال کی تھی۔
ایک ماہ سے مسلسل سب کوشش کر رہے تھے، بار بار چیک کر رہے تھے، مگر ریاض الجنہ کا وقت نہیں مل رہا تھا۔ اب تو ہر 15 منٹ میں پرمٹ ملنے لگا ہے، لیکن نومبر 2024 تک صرف سال میں ایک بار پرمٹ ملتا تھا۔ جتنا بھی کوشش کرتے، تاریخیں دستیاب ہی نہیں ہو رہی تھیں۔ دل گھبرا رہا تھا، بار بار دعا کرتی، الله سے فریاد کرتی کہ یاالله! میرا بلاوا کب آئے گا؟

مسجد میں ایک Nusuk کا نمائندہ نظر آیا، فوراً جا کر اپنی بےقراری کا اظہار کیا کہ ایک مہینے سے کوشش کر رہی ہوں، مگر اپوائنٹمنٹ نہیں مل رہی۔
وہ مسکرا کر کہنے لگا: "Keep trying, if you are lucky, you will get it."
یہ جملہ دل پر بجلی کی طرح گرا!
یاالله! کیا میں "لکی" نہیں؟ کیا میں محروم رہ جاؤں گی؟
دل میں ایک بوجھ سا محسوس ہونے لگا، جیسے کوئی حسرت سینے میں دبنے لگی ہو۔ مسجد میں کھڑے ہو کر درد بھری دعا کی، درود و سلام پیش کیا، اور بوجھل قدموں کے ساتھ کمرے میں واپس آ گئی۔ اگلے دن مسجد قبا گۓ ۔ ہیاں 2 نوافل کا ایک عمرے کے برابر ثواب ملتا ہے۔ نوافل ادا کرکے ظہر تک کمرے میں واپس آگے۔
عصر کے قریب میں جنت البقیع کے قریب Nusuk کے دفتر گی انہوں نے بھی keep trying کا مشورہ دیا۔
باہر پریشان نکلی تو مسجد کا ایک خادم جو غالباً ایک انڈین تھا اس نے کہا کہ میری بیوی کے پاس پرمٹ ہے۔ اگر آپ wheelchair پہ بیٹھ کے اس کے ساتھ جانا چاہے تو وہ آپ کو لے جاۓ گی۔ میں نے کہا کہ بھائی میں تو نہیں بیٹھو گی wheelchair پہ۔ ہاں کسی wheelchair والی خاتون کو لے جانا ہے تو وہ میں لے جاؤں گی۔
الله سے دعا کی پرمٹ کی وجہ سے جانے سے معذور ہوں مگر ایسے کسی طریقے سے حاضری نہیں دوں گی۔ اے ربِ کائنات میرے لئے کن فیکون کا معاملہ کردے کوئ معجزہ کردے۔ اور اس نے میری دعاکو شرف قبولیت بخشا۔
پھر معجزے ہونے لگے! کن فیکون… پھر ہونے لگا!
اس دن بہت کوشش کی ۔ بار بار مگر پرمٹ نہ ملا۔
اگلے دن طبیعت بھاری بھاری تھی۔ اس دن زیارات کا پروگرام تھا۔ سب لوگ چلے گے میں طبیعت کی وجہ سے روم میں ہی رک گئ۔
✨ پہلا معجزہ:
مغرب کی نماز سے کچھ پہلے مسجد چلی گئ تھی ۔ اندر بیٹھی ہوئی تھی کہ اچانک موبائل پر نوٹیفکیشن آیا، حالانکہ میرے پاس انٹرنیٹ بھی نہیں تھا، نہ ہی کسی وائی فائی سے جُڑی تھی!
فوراً Nusuk ایپ کھولی، دوبارہ کوشش کی، اور حیرت! عشاء کے بعد کا اپوائنٹمنٹ نظر آ گیا۔ دل کی دھڑکن تیز ہو گئی، امید کی کرن جاگ اٹھی، مگر QR کوڈ نہیں آ رہا تھا۔
مغرب کی نماز پڑھ کر کمرے میں گئی، پھر کوشش کی، مگر کوڈ نہیں آیا۔ دل میں عجب سا خوف بیٹھنے لگا، لیکن ایک امید تھی کہ اگر الله نے یہاں تک پہنچایا ہے، تو یقیناً آگے کا راستہ بھی کھولے گا۔

✨ دوسرا معجزہ:
عشاء کے بعد ریاض الجنہ کے دروازے پر پہنچی۔
ہر کسی کا QR کوڈ چیک کیا جا رہا تھا، قطاریں لگی تھیں، سختی سے تفتیش ہو رہی تھی، اور پھر… جب میری باری آئی، کسی نے کچھ نہیں پوچھا، کوئی کوڈ نہیں مانگا، بس ایک جملہ کہا:
"جاؤ اندر!"
دل دہل گیا، کیا واقعی؟! میں حیرت سے دروازے کے اندر داخل ہو گئی، آنکھیں نم تھیں، ہونٹ کانپ رہے تھے، دل میں صرف ایک سرگوشی تھی:
"YES, I AM LUCKY!"
✨ تیسرا معجزہ:
اندر جا کر دوبارہ ایک لائن میں کھڑا کر دیا گیا، وہاں QR کوڈ اسکین ہو رہے تھے۔
دل میں ایک اور دھڑکا! اب اگر کوڈ چیک کیا گیا اور نہ ملا، تو؟
میں نے ایک اہلکار سے کہا، "میرا QR کوڈ نہیں آیا"
اس نے مسکرا کر ایک طرف اشارہ کیا۔
میں اس طرف بڑھی، وہاں ایک اور شخص کھڑا تھا، دل بھر آیا، آنسو قابو میں نہیں تھے، روتے ہوئے اپنی پوری داستان سنا دی، اور وہ مسکرا کر بولا:
"Don’t worry."
پھر اس نے اپنی جیب سے ایک کاغذ نکالا، اس پر کچھ اسکین کیا اور کہا:
"Go sister, it’s your time!"
میں نے بے یقینی سے دوبارہ پوچھا: "کیا واقعی میں جا سکتی ہوں؟"
وہ ہلکا سا مسکرایا اور بولا: "YES."

پھر قدم اُٹھنے لگے، لیکن دل یقین نہیں کر رہا تھا…
ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے ہواؤں میں اُڑ رہی ہوں، جیسے ہر راستہ خود بخود کھل رہا ہو، جیسے کوئی مجھے آواز دے رہا ہو، "آ جاؤ عائشہ!"
ریاض الجنہ پہنچ کر نوافل ادا کیے، وہ کیفیت، وہ لمحہ، وہ سجدے… وہ سب الفاظ سے باہر تھے۔
✨ چوتھا معجزہ:
اگلے روز فجر کے بعد دوبارہ روضہ کی طرف گئی، اور پھر ایک اور معجزہ میرا منتظر تھا۔
ریاض الجنہ میں تعمیراتی کام شروع ہونے والا تھا۔ جس کے باعث روضہ دو دن کے لیۓ بند ہونے والا تھا لہذا صبح میں سب خواتین کے لیے دروازہ کھول دیا گیا۔بند دروازے میرے لیے کھلتے جا رہے تھے…
دل میں سرگوشی ہونے لگی:
"عائشہ! آ جاؤ!"

جب مخلوقات میں سب سے افضل آپ کا میزبان ہو اور وہ خود دروازے کھول دے، تو پھر کس نعمت اور رحمسے انکار ہے؟
دوبارہ نوافل ادا کیے، اب تو یقین آ چکا تھا کہ Definitely I am lucky
یہ ایک ایسا عشق تھا جو الفاظ میں بیان نہیں ہو سکتا، ایسا عشق جو دل پر نقش ہو چکا تھا، ایسا عشق جو روح کو ہلا کر رکھ دے۔

مسجد نبوی کی فضا میں چلتے ہوئے، درِ مصطفیٰ پر کھڑے ہو کر دل میں بس یہی دعا تھی:
"یاالله! یہاں سے واپس نہ جانا پڑے، درِ مصطفیٰ پر ہی زندگی گزر جائے!"
لیکن وقت رکتا نہیں، مقدر کے فیصلے بدلے نہیں جا سکتے تھے۔

بوجھل قدموں سے ہوٹل واپس آئی، مگر دل وہیں چھوڑ آئی۔








04/01/2025

قسط 10
غار ثور اور غار حرا
جمعہ کی نماز کے بعد ہم نے فیصلہ کیا کہ غارِ ثور کا سفر کیا جائے۔ گوگل میپ کا سہارا لیتے ہوئے ہم نے اپنی گاڑی کا رخ پہاڑوں کی طرف موڑ لیا۔ راستے بھر ہر منظر دل کو بھا رہا تھا۔ پہاڑوں کے درمیان میں شہر کی رونقیں۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے قدرت کے حسین نظارے ہمیں اپنی طرف کھینچ رہے ہوں۔ آخر کار ہم ایک جگہ پہنچے، جہاں گوگل آنٹی نے اعلان کیا: "You have reached your destination"۔ ہم نے گاڑی روک اور اِدھر اُدھر دیکھا، لیکن غارِ ثور کا کوئی نشان نظر نہیں آیا۔ سامنے ایک بلند پہاڑ تھا، نیچے چند گھر بنے ہوئے تھے، لیکن کوئی انسان دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ ابھی ہم سوچ ہی رہے تھے کہ کیا کیا جاۓ اتنے میں پہاڑ سے ایک بکریوں کا غول نیچے اترنے لگا۔ یہ منظر کسی فلم کا حصہ لگ رہا تھا۔ مسفرہ اور ہادی خوشی سے ان بکریوں کے ساتھ کھیلنے لگے۔ بکریاں ایک گھر کے پاس بنے باڑے میں داخل ہو رہی تھیں۔ یحییٰ باڑے کی طرف گیا، تو وہاں ایک شخص بیٹھا ہوا تھا جو غالباً بکریوں کا مالک تھا۔ یحییٰ نے اس سے اردو اور کچھ ٹوٹی پھوٹی عربی میں بات کی۔ اس نے بتایا کہ غارِ ثور اس پہاڑ کی دوسری جانب ہے اور اکثر لوگ میپ کی وجہ سے یہاں پہنچ جاتے ہیں۔

یہ سن کر ہم نے گاڑی دوبارہ چلائی اور پہاڑ کی دوسری طرف پہنچے۔ وہاں کا منظر دیکھ کر دل خوشی سے جھوم اٹھا۔ نیلے آسمان کے نیچے، سبز پہاڑوں کے درمیان، ہر طرف سکون ہی سکون تھا۔ پہاڑ کے دامن میں کئی مقامی لوگ اپنی فیملیز کے ساتھ موجود تھے، کچھ کھانے پینے میں مصروف تھے، اور کچھ اپنی مجلسیں لگا کر بیٹھے تھے۔ جمعہ کی چھٹی کی وجہ سے وہاں خاصی رونق تھی۔

پہاڑ کی بلندی پر نظر ڈالی تو اوپر غارِ ثور نظر آیا۔ تقریباً ایک میل کا ٹریک تھا، لیکن پہاڑ پر چڑھنے کے دوران یہ فاصلہ کئی میل کے برابر ہوتا ہے۔ یحییٰ نے تھوڑا سا چڑھنے کی کوشش کی، لیکن جلد ہی واپس آ گیا۔ میں نے وہ منظر دیکھ کر دل ہی دل میں سوچا کہ یہ وہی غار ہے جہاں ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ نے ہجرت کے موقع پر تین دن قیام کیا تھا۔ یہ سوچ کر دل عقیدت اور محبت سے بھر گیا۔

حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا وہ لمحہ یاد آیا جب کفار غار کے دہانے تک پہنچ گئے تھے، اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے گھبرا کر کہا: "یا رسول الله! وہ ہمیں دیکھ لیں گے"۔ اس پر نبی کریم ﷺ نے تسلی دی اور فرمایا: "لا تحزن، ان اللہ معنا" (غم نہ کرو، اللہ ہمارے ساتھ ہے)۔ کفار وہی سے مڑگے۔

حضرت اسماء رضی الله عنہا کی قربانیاں یاد آئیں، جو بکریاں چرانے کے بہانے یہاں آ کر اپنے والد اور نبی کریم ﷺ کو کھانا پہنچاتی تھیں۔ وہ وقت اور وہ قربانیاں سب سوچتے ہوئے دل میں ایک عجیب سکون اور محبت کا احساس پیدا ہوا۔ کچھ دیر وہیں رکے، پہاڑوں کو دیکھا، اور شہر کا نظارہ کیا۔ سورج غروب ہو رہا تھا، اور منظر دل کو چھو لینے والا تھا۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے یہ جگہ قدرتی سکون اور برکتوں کا مرکز ہو۔

نیچے اترے تو مغرب کا وقت ہو چکا تھا۔ نماز ادا کی، کھانا کھایا، اور پھر غارِ حرا کی طرف روانہ ہوئے۔ یہ رستہ کل کے رستے سے مختلف تھا۔ جب وہاں پہنچے تو جگہ کی چہل پہل دیکھ کر دل خوش ہو گیا۔ وہاں کھانے پینے اور کپڑوں کے مشہور برانڈز کی آؤٹ لیٹس تھیں۔ اور ایک ڈیجیٹل میوزیم بھی تھا۔ ہم نے ٹکٹ لے کر میوزیم گۓ۔

میوزیم میں حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت نوح علیہ السلام، حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے کچھ حالاتِ زندگی کو ڈیجیٹل اسکرینز پر دکھایا گیا۔ اصحابِ فیل کا واقعہ، اور نبی کریم ﷺ کا غارِ حرا میں عبادت کے لیے جانا دکھایا گیا۔ اس پہاڑ، جسے جبلِ نور بھی کہا جاتا ہے، کا ذکر بھی تھا۔

میوزیم میں ایک ڈمی غارِ حرا بھی موجود تھی، جو بالکل اصل غار کی طرح چھوٹی تھی۔ جہاں ایک وقت میں اہک بندہ ہی بیٹھ سکتا تھا۔ میوزیم میں قرآن پاک کے مختلف تاریخی نسخے بھی رکھے گئے تھے، جن میں حضرت عثمان رضی الله عنہ کے دور کا قرآن بھی شامل تھا، جس میں اعراب اور نقطے شامل کیے گئے تھے۔ ایک پاکستانی خاتون کے ہاتھ سے کڑھا ہوا قرآن بھی موجود تھا، جس کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ ہمیشہ وضو کے ساتھ اس پر کام کرتی تھیں۔

میوزیم سے باہر نکلے تو غارِ حرا کا نیا ٹریک دیکھا۔ گاڑیوں کے لیے بھی ایک راستہ بنایا گیا تھا، لیکن ابھی وہ مکمل طور پر فعال نہیں تھا۔ مسفرہ کو وہاں ایک بلی کا بچہ مل گیا، اور وہ اس کے ساتھ کھیلنے لگی۔ بلیوں کی دیوانی مسفرہ نے اسے گود میں اٹھا لیا اور اس کے ساتھ کھیلتی رہی۔

آخرکار، ہم نیچے اترے اور ہوٹل واپس جانے کا راستہ لیا۔ کمرے میں پہنچ کر سب گہری نیند سو گئے۔ اگلا دن، ہفتہ 23 تاریخ، مکہ مکرمہ میں ہمارا آخری دن تھا۔ ہم نے فیصلہ کیا کہ یہ پورا دن حرم شریف میں گزاریں گے۔









29/12/2024

قسط 9
مسجد الحرام میں مطاف میں مردوں کو بغیر احرام داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ اس لئے بچوں اور عبد الرحمن نے احرام باندھا اور ہم مطاف کی طرف چل دیے۔ آج ہمارا ارادہ تھا کہ ملتزم کو چھو سکیں، حجر اسود کو بوسہ دے سکیں، اور رکن یمانی تک پہنچ سکیں۔ پھوپو کو صحن میں بٹھایا اور ہم مطاف میں داخل ہو گئے۔ عبد الرحمن سب سے آگے تھے، درمیان میں ہم، اور سب سے پیچھے یحییٰ۔ اللہ کے فضل سے ہم ترتیب سے آگے بڑھتے گئے اور بیت الله کے قریب پہنچ گئے۔

عبد الرحمن ہمارے لیے راستہ بناتے رہے، اور ہم نے غلافِ کعبہ کو چھوا۔ ایسا لگا جیسے زندگی میں پہلی بار کسی حقیقی شے کو چھوا ہو۔ رکنِ یمانی پر بوسہ دیا، اور حجر اسود تک پہنچنے کی کوشش کی، لیکن رش زیادہ ہونے کی وجہ سے مردوں کے ہجوم میں داخل نہ ہونے کا فیصلہ کیا اور واپس آ گئے۔ یحییٰ نے کہا کہ آپ لوگ جائیں، میں حجر اسود کو بوسہ لے کر آتا ہوں۔ اور الله کے فضل سے وہ واقعی بوسہ لے کر واپس آ گیا۔

عصر کا وقت ہو گیا، عصر کی نماز ادا کی اور بچے اور عبد الرحمن ہوٹل واپس چلے گئے، جبکہ میں، پھوپو، اور طوبیٰ باجی حرم میں ہی رک گئیں۔ آج کل تعمیراتی کام کی وجہ سے مطاف میں رکنے کی اجازت نہیں دی جاتی، لیکن کسی نے ہمیں بتایا کہ بابِ فہد کے قریب ایک مخصوص جگہ ہے جہاں خواتین مغرب اور عشاء کے درمیان صحن میں بیٹھ سکتی ہیں۔ ہم نے فیصلہ کیا کہ مغرب تک پہلی منزل پر ہی رکیں۔

مغرب کا وقت ہوا تو نیچے آئے اور نماز ادا کی۔ اس کے بعد ہم نے "براق پلر" کو تلاش کیا۔ وہاں پہنچے تو دیکھا کہ تمام ستون سفید ہیں، صرف ایک ستون گلابی ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں معراج کی رات حضرت جبرائیل علیہ السلام نے براق کو باندھا تھا۔ وہاں چھ ستون ہیں، جن میں سے چار پر چاندی کے حلقے ہیں۔ ایک ستون وہ ہے جہاں خاتم النبیین ﷺ نے وضو کیا اور معراج سے واپس آنے تک وہاں وضو کا پانی تھا۔ دل جذبات سے بھر گیا کہ الله کے محبوب ﷺ اس مقام سے معراج پر گئے تھے اور واپس آ کر جب اس کے بارے میں لوگوں کو بتایا تو حضرت ابو بکر صدیق رضی الله عنہ فوراً ایمان لے آئے، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ آپ ﷺ دنیا کے سب سے سچے انسان ہیں۔

کچھ دیر وہیں بیٹھے رہے، دل جذبات سے بھرا ہوا تھا۔ عشاء کا وقت ہوا تو مطاف میں خواتین کے لیے مخصوص جگہ کھول دی گئی۔ وہاں جا کر کچھ دیر بیٹھے، تسبیحات کیں، اور عشاء کی نماز ادا کی۔ نماز کے بعد ہم اپنے ہوٹل واپس آ گئے، کھانا کھایا، اور بچوں کو سلا کر میں اور عبد الرحمان 12 بجے کے قریب حرم چلے گۓ۔ خواتین کے لیۓ حطیم میں نوافل کا وقت رات 8 سے 2 بجے تک ہے۔ لائن میں کھڑی ہوئی جلد ہی باری آگئ۔الحمد للّٰه نوافل ادا کئے اور کمرے میں وا پس آگۓ۔
اگلے دن جمعۃ المبارک تھا۔ بچوں کو پہلے ہی کہہ دیا تھا ک صبح 9 بجے حرم کے لۓ نکل جانا ہے۔ صبح جلدی جلدی کرتے کرتے بھی 9:30 ہوگۓ۔ باہر نکلے تو عید جا سماں لگ رہا تھا۔ ہمارے ہوٹل سے گیٹ 75_80 قریب تھے اور ابھی تک ہم حرم یہیں سے جا رہے تھے۔ مگر آج یہ رستہ بند تھا۔ رش بڑھ چکا تھا۔ شرطے نے دوسری طرف جانے کو کہا۔ ہم لوگ گھوم کر دوسری طرف پہنچے۔اسطرف سے ہم پہلی مرتبہ مسجدِ حرم میں داخل ہورہے تھے۔ اس طرف تعمیراتی کام چل رہا تھا دو ہیلی پیڈز بھی تعمیر ہو رہے تھے۔ مسجد الحرم پہنچے دوسری منزل پہ جانے کا فیصلہ کیا۔ اوپر آرام سے جگہ مل گئ۔ نمازِ جمعہ ادا کرکے واپس آگۓ۔
آج ہمارا ارادہ غارِ ثور اور غارِ حرا جانے کا تھا۔

یہ سفر دل کو سکون اور روح کو تازگی بخشنے والا تھا، اور ہر لمحہ ایمان کی تازگی اور الله کی قربت کا احساس دلانے والا سفر تھا۔







چائے غم بانٹتی ہے اور  پودا ہریالی دونوں سے ہے زندگی کی خوشحالی بیٹھے تھے ہم چائے بنانے کودل بہلانے کواور  غم مٹانے کوکپ...
29/12/2024

چائے غم بانٹتی ہے اور پودا ہریالی
دونوں سے ہے زندگی کی خوشحالی

بیٹھے تھے ہم چائے بنانے کو
دل بہلانے کواور غم مٹانے کو

کپ دیکھا تو خیال بدل گیا
اور وہ پودے کے گھر میں ڈھل گیا

چائےتو نہ بنی لیکن دل کو سکون آیا
کپ میں پودے کے لئے گھر بنایا

اب یہ کپ ہماراپودے کا گھر ہوا
اتنی چائے کا خواب بس ایک خواب ہی رہا







Now it's the plant's turn to sip some chai 🫖🌿🪴

23/12/2024

سعودی سفر: قسط 7
رب کے حضور
اگلے دن ہم صبح جلدی اٹھے۔ رات کی تھکن کے باوجود دل میں ایک خوشی اور اطمینان تھا۔ ناشتہ سے فارغ ہو کر طوبیٰ باجی اور پھوپو کو لینے جدہ ایئرپورٹ روانہ ہو گئے۔ جدہ ایئرپورٹ تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کے فاصلے پر تھا۔ راستے میں پہاڑوں کے حسین مناظر، نیلے آسمان کی وسعت اور سڑکوں کے کنارے چلتے اونٹ دیکھ کر دل قدرت کی اس خوبصورتی پر حیران تھا۔

جب حج ٹرمینل پہنچے تو پتہ چلا کہ فلائٹ لیٹ ہے۔ انتظار طویل لیکن پر امید تھا۔ آخرکار فلائٹ آئی، اور جیسے ہی پھوپو اور طوبیٰ باجی کو دیکھا، دل میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ ان کے چہروں پر سفر کی تھکن نمایاں تھی، لیکن حرم کی زیارت کی امید نے ان کی آنکھوں میں روشنی بھر دی تھی۔ ہم انہیں لے کر واپس مکہ روانہ ہوئے۔

مکہ پہنچ کر عصر کا وقت قریب تھا، اس لیے جلدی سے مسجد الحرام کی طرف روانہ ہوئے۔ جیسے ہی حرم کے صحن میں قدم رکھا، ایک روحانی سکون دل و دماغ پر چھا گیا۔ رش بہت زیادہ تھا، لیکن ہر طرف الله کی حمدوثناء صدائیں دل کو سکون بخش رہی تھیں۔ سب نے عمرہ کا آغاز کیا۔ طواف، سعی، اور دعاؤں کے دوران وقت کا احساس ہی نہ رہا، اور عشاء کا وقت ہو گیا۔ تھکن جسم پر حاوی تھی، لیکن دل کو اطمینان تھا۔ کمرے میں واپس آ کر ہم سب گہری نیند سو گئے۔
اگلے دن صبح 8 بجے میں، عبد الرحمان، اور طوبیٰ باجی دوبارہ عمرہ کی نیت سے قرن المنازل کی طرف روانہ ہوئے۔ راستے میں حرم کی پرنور یادیں اور دل میں ایک خاص قسم کی خوشی تھی۔ وہاں پہنچ کر عمرہ کی نیت کی، اور دوبارہ مکہ روانہ ہو گئے۔ ظہر کے بعد مسجد الحرام پہنچے تو رش کم تھا۔ مطاف میں طواف کرنا نسبتاً آسان تھا، اور ہم عصر کی نماز سے پہلے ہی عمرہ مکمل کر چکے تھے۔

"سنو، میں نے حرم میں دعائیں مانگی تھیں کہ میں تمہارے اور بچوں کے ساتھ بیت الله کا سفر کروں۔ یہ میری زندگی کی سب سے بڑی خواہش ہے، اور جب ہم مسجد الحرام پہنچیں تو تم میرے پیچھے نظریں جھکائے خاموشی سے چل رہی ہو۔ مطاف میں پہنچ کر جب میں تمہیں کہو، 'اب آنکھ اٹھا کر بیت الله کو دیکھو'۔

پھر ہم دونوں نے مل کر دعائیں مانگیں۔ وہ دعائیں جو ہمارے دل کے سب سے گہرے جذبات کے ساتھ کی ہو۔ میں نے تمہارے لیے، بچوں کے لیے، اور اپنی زندگی کے ہر لمحے کے لیے الله سے شکر ادا کروں۔ پھر میں تمہارا ہاتھ تھام کر طواف کروں"
عبد الرحمان اکثر مجھ یہ باتیں کرتے تھے جب سے عمرہ کرکے آۓ تھے۔ میں بھی خیالوں میں ایسا ہی سوچا کرتی تھی۔ جیسا پہلے بتایا کہ امی ابو کے حج پہ جانے سے ہی دل کرتا تھا کہ میں بھی بیت الله جاؤں۔ تب بس محرم کی شرط پوری ہونے کا خیال تھا۔ وہ محرم ابو, بھائی , ماموں کوئی بھی ہو۔ مگر جب عبد الرحمان نے مجھ سے اس خواہش کا ذکر کیا تب سے میں بھی بس عبد الرحمان کو ہی بیت الله حاضری کے لیۓ محرم تصور کرتی تھی کہ ان کے ساتھ ہی جاؤں گی۔ اکثر لوگوں سے سنتی تھی کہ میں اپنے بھائی یا بیٹے کے ساتھ جاؤں گئ مگر مجھے عبد الرحمان کے علاوہ کسی کے ساتھ اپنے رب کے حضور حاضر نہیں ہونا تھا۔ الحمدللّٰه اب برسوں بعد یہ لمحات میری زندگی کے سب سے رومانوی اور مقدس لمحات تھے۔ جاگتی آنکھوں کی تعبیر مکمل ہو رہی تھی۔ طواف میں ہر چکر کے ساتھ میرا دل الله کے شکر اور ان کی محبت سے لبریز ہو رہا تھا۔ مجھے لگا جیسے ہماری ہر دعا، ہر خواہش الله کے سامنے قبول ہو رہی ہو۔ چہرے پر وہ سکون اور محبت دیکھ کر مجھے احساس ہوا کہ زندگی میں اس سے زیادہ خوبصورت کچھ نہیں ہو سکتا۔










Makkah to Jeddah


Address

Dubai

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ayshman posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Ayshman:

Share